بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

فری لانسنگ

آن لائن فری لانسنگ – ایک تعارف

فری لانسنگ انٹرنیٹ کے ہزاروں حیرت انگیز عجائبات میں سے ایک ایسا عجوبہ ہےجسے جتنا ٹٹولتے جائیں اتنا ہی پرت دار اور اتنا ہی پُر پیچ ثابت ہوتا ہے۔ لغوی معنوں میں اگر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ فری لانسنگ پیسے کمانے کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس میں ایک مزدور یا کاریگر اپنا کام مختلف لوگوں کو ان کی ضرورت کےمطابق کرکے دیتا ہے۔ ہمارے یہاں اسے لفظ “دِہاڑی دار” سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔ یعنی فری لانسر ایک دہاڑی دار ہوتا ہے جو کسی بازار، کسی چوک یا گلی کے نکڑ پر گاہک کی تاک میں رہتا ہے۔ گاہک آتا ہے، اپنا کام بتاتا ہے، اور دہاڑی دار اپنی مزدوری یا اجرت طے کرکے کام پر لگ جاتا ہے۔ کام دینے والا (client) چاہے تو ایک مکمل پراجیکٹ ایک ہی دہاڑی دار یا فری لانسر سے مکمل کروائے یا مختلف فری لانسرز سے مختلف وقتوں میں کام کروائے۔ یہ بات کلائنٹ کی مرضی پر منحصر ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: میں نے ایک مضمون لکھ کر ڈھائی لاکھ روپے کیسے کمائے

ہمارے یہاں دہاڑی دار ایک نچلے درجے کا شخص ہوتا ہے۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک میں فری لانس کام  باقاعدہ ایک کاروباری صنعت  کی نوعیت اختیار  کرچکا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ روایتی  طرز کے کاموں میں اکثر ایک ہی سرپرست (Boss) یا سپر وائزر کو مزاج کی ناہمواری کے ساتھ جھیلنا اور  معمول کی نو سے پانچ روٹین کے پنجرے میں قید ہو کر کام کرنا  معاشرے کے ملازمت پیشہ افراد میں سماجی اور  نفسیاتی کشیدگی و تناؤ (Socio-psychological stress)  کو جنم دیتا ہے۔ نتیجتاً کام کرنے والے افراد کی ذاتی تخلیقی صلاحیتیں تو ختم ہو ہی جاتی ہیں، ساتھ ہی ساتھ معاشرے کی ترقی بھی بڑی حد تک متاثر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس  کلائنٹ کے ساتھ فری لانسر کا رشتہ  بہت مختلف ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ کی مارکیٹ میں ایک کامیاب کیرئیر بنانے کے لیے اہم ترین مرحلہ یہ ہے کہ کلائنٹ اور فری لانسر دونوں ہی اپنے اپنے رویے، اخلاق اور احساسِ ذمہ داری کا خیال رکھیں۔ یہ انٹرنیٹ کی مرہون منت ہے کہ یہاں کلائنٹ اور فری لانسر دونوں ہی اپنی اپنی ذمہ داریوں کے یکساں جواب دہ ہوتے ہیں۔  دونوں میں سے کوئی ایک بھی اپنی ذمہ داریوں میں کھوٹ اور  فریب کاری کرے گا تو انٹرنیٹ کے بازار میں اس کی عزت کی دھجیاں اُڑ جائیں گی۔ نتیجتاً ایسے کلائنٹ کو فری لانسر ملنا، یا ایسے فری لانسر کو کلائنٹ ملنا مشکل  اور مارکیٹ میں کام کرنا دشوار  ہو جائے گا۔ چنانچہ دونوں ہی اپنا اپنا کام پوری ذمہ داری سے کریں گے تو ہی ترقی کرسکیں گے۔

فری لانسنگ کے ذریعے بہت سارے کاموں کو اختیار کرکے آن لائن پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ چند کام جو فری لانس  ویبسائٹس پر مشہور ہیں ان کی فہرست درج ذیل ہے:

  • کوئی ویب سائٹ، ایپلیکیشن یا سافٹوئیر وغیرہ بنانا
  • گرافک ڈیزائننگ کرنا
  • تحریری مواد (Content)، مضامین، آرٹیکلز وغیرہ لکھنا
  • کسی بھی دیے گئے موضوع پر کوئی کتاب لکھنا
  • کسی کے بلاگ کے لیے پوسٹ لکھنا
  • تحقیقی مقالہ لکھنا
  • کسی خاص موضوع پر معلومات اکھٹا کرکے جمع کرنا
  • کسی تحریر کو تبدیل کرکے اپنے الفاظ اور انداز میں دوبارہ لکھنا
  • کسی تحقیقی مقالے کے لیے ریفرنس اکھٹا کرنا
  • کتاب کی کمپوزنگ اور فارمیٹنگ وغیرہ کرنا
  • کسی کتاب یا دستاویز میں پروف ریڈنگ، نظر ثانی اور گرائمر ، ہجا (spellings) اور املا میں ضروری تبدیلیاں اور اصلاح کرنا
  • ڈیٹا انٹری، یعنی کسی بڑی فائل سے ڈیٹا چھوٹی فائلوں میں، یا چھوٹی فائلوں سے ڈیٹا لے کر بڑی فائل یا کسی سافٹوئیر یا ڈیٹا بیس میں منتقل کرنا۔
  • اکاؤنٹ اور کھاتے بنانا

یہ  ان ہزاروں کاموں میں سے چند ایک ہیں جو آپ فری لانسنگ ویب سائٹس پر آنے والے کلائنٹ کے لیے مستقل طور پر یا اپنی مرضی کے مطابق کر سکتے ہیں اور ان سے پیسے کما سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ کئی کام مجھ سے لکھنے سے رہ گئے ہیں، لیکن جو جو ذہن میں آتے گئے ان کا ایک خاکہ آپ کے سامنے پیش کردیا ہے تاکہ آپ کے ذہن میں فری لانس کاموں کی نوعیت کی بہتر طریقے سے تصویر بن سکے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کارو بار – دو بنیادی اصول

عام طور پر ایک کلائنٹ جب کسی ویب سائٹ پر آتا ہے تو وہ اپنے کام کی نوعیت اور اپنے کام کا بجٹ خود ہی بتاتا ہے۔ بہت سے فری لانسر اس میں سے بولی لگاتے ہیں کہ وہ اتنے پیسوں میں یہ کام مکمل کرکے اتنے دن میں واپس دے دیں گے۔ اس کے بعد کلائنٹ کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ بولی، وقت، بجٹ اور فری لانسر کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے  جس کو چاہے اسے کام سونپ سکتا ہے۔ اس کے بعد بات کلائنٹ اور فری لانسر پرائویٹ میسیج میں کام سے متعلق تفصیلی بات کرتے ہیں اور جو ضروری معاملات ہوں وہ طے کرکے کام شروع ہو جاتا ہے۔ کام کی تکمیل کے بعد رقم کی ترسیل ویب سائٹ ہی کے ذریعے مکمل ہوتی ہے تاکہ دھوکہ بازی اور کام کے بعد فرار ہونے کا کوئی خطرہ  نہ رہے۔ ویب سائٹ اس بات کو ممکن بناتی ہے کہ کام مکمل ہونے کے بعد کلائنٹ کے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ یا اکاؤنٹ سے پیسے  فری لانسر کے اکاؤنٹ میں  خود کار طور پر پہنچ جائیں۔ اگر فری لانسر کسی اور طریقے کو اختیار کرنا چاہے تو یہ اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کاروبار - چند مغالطے

اب یہ بات سمجھ میں آچکی ہے کہ فری لانسنگ کیا ہے، فری لانسنگ میں کس طرح کا کام بکتا ہے ، کلائنٹ اور فری لانسر ز کہاں ملتے ہیں اور  رقم کا لین دین وغیرہ  کس طرح ہوتا ہے۔ آگے آنے والی تحریروں میں ان شاء اللہ فری لانس کام کے کچھ اعداد و شمار اور اس شعبے میں ترقی اور امکانات پر بات کرتے ہیں۔

بلاگ کو ضرور سبسکرائب کیجیے تاکہ آنے والی تحریریں آپ سے رہ نہ جائیں۔

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

7 تبصرے

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: