بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

کاروبار

آن لائن کاروبار – چند مغالطے

آج کی یہ تحریر آن لائن کاروبار کے حوالے سے ایک سیریز کا پہلا حصہ ہے۔ اگلے حصوں میں ہم آن لائن کاروبار کے حوالے سے مختلف ذیلی موضوعات پر بات کریں گے۔

جب بھی آن لائن کاروبار کی بات آتی ہے تو لوگوں کے مختلف رویے اور مختلف آرا دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بڑے بڑے مغالطے، توہمات اور بد گمانیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

اس کی وجوہات شاید یہ ہوں کہ ہمارے یہاں اںٹرنیٹ کے استعمال کی صحیح سمجھ بوجھ لوگوں میں خال خال پائی جاتی ہے۔ یا پھر یہ کہ انٹرنیٹ کی تھوڑی بہت سمجھ ہو تو لوگوں کی بے وقوفیوں کے قصے سن کر اکثر لوگ انٹرنیٹ پر ہونے والی دھوکے بازیوں (SCAM) سے خائف اور مایوس رہتے ہیں۔

گو کہ لوگوں کی یہ آرا اور یہ خیالات مکمل طور پر غلط نہیں ہیں، نہ انٹرنیٹ پر ہونے والی دھوکے بازیوں سے مایوسی کوئی اچھنبے کی بات ہے۔ لیکن درست تر بات یہ ہے کہ مایوسی کے بنیادی عناصر کو سمجھے بغیر مکمل تجزیہ کرنا شاید آپ کو انٹرنیٹ کے حقیقی اور انتہائی حوصلہ افزا فوائد سے محروم رکھ سکتا ہے۔

میرے ذہن میں جس وقت یہ بلاگ بنانے کا خیال آیا تھا ذہن میں سب سے پہلے یہ بات تھی کہ لوگوں کے ذہنوں میں سے مغالطوں اور توہمات کا ازالہ کیا جائے اور درست راہ کی جانب رہنمائی کی جائے۔ تاکہ وہ لوگ جو تمام سہولیات، صلاحیت اور درست موقعے کے باوجود بھی انٹرنیٹ کے فوائد حاصل کرنے سے بے وجہ محروم ہیں وہ سیکھ اور سمجھ سکیں۔

مغالطہ # 1: آن لائن کاروبار صرف ایک دھوکہ ہے۔ اس سے پیسہ حاصل نہیں ہوتا

جواب: آن لائن ہی نہیں، دنیا کی کسی بھی مارکیٹ، کسی بھی بازار یا منڈی میں چلے جائیں۔ نئے کاروبار شروع کرنے والوں ٹھگا جاتا ہے۔ بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ بہت کچھ دھوکے بازیاں، عیاریاں اور مکاریاں آپ کو دنیا کے ہر کاروباری بازار میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ گاہکوں کو توڑا جاتا ہے، خریدا اور بیچا جاتا ہے۔ تو پھر انٹرنیٹ سے باہر کی دنیا میں آپ یہ دھوکے بازی والا فارمولا کیوں نہیں لگاتے؟

دیکھیں سیدھی سی بات ہے۔ آن لائن مارکیٹ ہو یا آف لائن۔ جہاں بھی کاروبار ہوگا، وہاں کاروبار کے نام پر بد دیانتیاں اور دھوکے بازیاں دیکھنے اور سننے کو ملیں گی۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ لوگ پیسہ کی لالچ میں کاروبار کے لیے اپنا ضمیر فروخت کرتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ تحریر میں بتایا تھا کہ انٹرنیٹ کی مارکیٹ بہت وسیع ہے۔ بلکہ حقیقی دنیا میں موجود کوئی بھی مارکیٹ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی کیونکہ انٹرنیٹ پر دنیا کی کُل آبادی کا پچاس فیصد حصہ موجود ہے۔ تو ظاہر ہے کہ ہر قسم کا دماغ رکھنے والے لوگ بھی یہاں موجود ہیں۔ جب کوئی ناتجربہ کار بندہ آن لائن کاروبار کرنے کے لیے کچھ پیسہ لے کر آتا ہے تو یا تو وہ توہمات کے ہاتھوں پیسہ گنوا دیتا ہے، یا غلط مشوروں اور سر سبز باغات کی چمک میں اندھا ہو جاتا ہے اور نقصان اٹھاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس کا مقصد یہ نہیں کہ انٹرنیٹ پر آن لائن کاروبار نہیں کیا جاسکتا۔

مغالطہ # 2: انٹرنیٹ پیسہ بنانے کی مشین ہے

یہ بات ایک لحاظ سے غلط بھی نہیں ہے اور پوری طرح درست بھی نہیں۔ لیکن حقیقت دو انتہاؤں کے درمیان ہے۔ جس طرح حقیقی دنیا میں آپ کوئی بھی کاروبار کریں تو پیسہ محنت، اخلاص اور درست حکمتِ عملی سے کام کرنے پر ہی ملتا ہے۔ اسی طرح آن لائن دنیا میں بھی کاروبار اسی طرح چلتا ہے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ انٹرنیٹ کی مارکیٹ حقیقی دنیا کی کسی بھی مارکیٹ سے زیادہ نہیں، بہت زیادہ وسیع ہے۔ گویا اگر آپ درست حکمتِ عملی کے ساتھ کام کرتے ہیں تو آپ معمولی سے فن کے ساتھ بھی چند سالوں میں اتنا کما سکتے ہیں جتنا شاید آپ حقیقی دنیا میں پوری زندگی میں نہیں کما پائیں گے۔

مغالطہ # 3: انٹرنیٹ سے پیسہ کمانے کے لیے انویسٹمنٹ کی ضرورت نہیں

بد قسمتی سے پاکستان اور شاید انڈیا میں بھی یہ تصور بہت عام ہے کہ آن لائن کاروبار بغیر کوئی پائی پیسہ لگائے ہو جاتا ہے۔ لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس کمپیوٹر اور اس میں انٹرنیٹ کا کنکشن ہو اور پھر پیسے کی بارش ہونا شروع ہو جائے گی۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ انٹرنیٹ کوئی کھیل نہیں ہے۔ اس پر بھی کامیابی کے وہی پروٹوکولز اور وہی معیارات ہیں جو آپ کو حقیقی دنیا میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے۔ اور بعض وقت پیسہ کھینچنے کے لیے آپ کو اپنی توقع سے بھی زیادہ پیسہ لگانا پڑتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  کاروبار اور ویب سائٹ کی ضرورت

بلکہ اگر آپ مجھ جیسے ہیں تو شاید ہزاروں روپے ضائع بھی کر بیٹھیں گے۔ لیکن یہ طے ہے کہ اگر آپ واقعی کوئی سنجیدہ کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں تو ابتدائی ضروریات کے لیے باقاعدہ انویسٹمنٹ درکار ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ بغیر پیسہ لگائے صرف اپنی صلاحیتوں کے بل پر کوئی چھوٹا موٹا کام ڈھونڈ لیں۔ لیکن یہاں پھر دو باتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ پیسہ اور وقت کا اُلٹ پھیر کا رشتہ ہے۔ جتنا پیسہ لگائیں گے، آمدنی میں وقت اتنا ہی کم لگے گا۔ اور پیسہ نہ لگائیں تو آمدنی شروع ہونے میں اچھا خاصا وقت درکار ہوگا۔ اور آمدنی آنے بھی لگے تو اس کام کو بڑا کرنے کے لیے ایک مخصوص انویسٹمنٹ بہر حال درکار ہوگی۔

مغالطہ # 4: انٹرنیٹ سے بغیر محنت کے گھر بیٹھے پیسہ آتا ہے

یہ تصور بھی بہت عام ہے۔ لیکن جتنا یہ عام ہے اتنا ہی غلط اور بے بنیاد ہے۔ انٹرنیٹ سے آج تک کسی نے بغیر محنت کے نہیں کمایا۔ جو بات اچھی ہے وہ صرف یہ کہ اس کے لیے آپ کو روٹین میں نو سے پانچ آفس نہیں جانا ہوتا۔ آٹھ سے دس گھنٹے گھر سے باہر نہیں رہنا پڑتا۔ کسی باس (boss) کے اشاروں پر نہیں ناچنا پڑتا۔ پروموشن کی لالچ اور نوکری کے چھوٹ جانے کا ڈر نہیں ستاتا۔ لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں محنت نہیں ہوتی تو آپ غلط رستے پر ہیں۔ انٹرنیٹ پر کام کرنے میں اس قدر محنت ہوتی ہے، جتنی کہ شاید آپ اپنی معمول کی نوکری میں بھی نہ کرتے ہوں۔ تاہم یہ محنت اپنا رنگ لاتی ہے۔ اور ایسا رنگ لاتی ہے کہ آپ نوکری کی ساری زندگی گزار کر بھی اس کی برابری نہیں کر سکتے۔

تو اگر انٹرنیٹ کو روزی کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں تو ظاہر ہے کہ محنت تو ہوگی۔ اور جتنی محنت ہوگی، نتائج بھی اسی حساب سے آئیں گے۔

خلاصۂ کلام

انٹرنیٹ پر پیسہ کمانا بیک وقت بہت مشکل اور بہت آسان ہے۔ بات یہ ہے کہ آپ کے سامنے مخصوص اہداف اور حکمتِ عملی ہونی چاہیے۔ اور کوئی مخلص شخص جو آپ کو گائیڈ کرسکے۔

لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ پیسہ کمانے کی مشین ہے، یہاں آپ نے کمپیوٹر آن کیا، انٹرنیٹ کنیکٹ ہوا اور پیسے آنا شروع ہوگئے۔ تو آپ سے گزارش ہے اس بلاگ سے کوئی امید نہ رکھیے۔ لیکن اگر آپ درست حکمتِ عملی جاننا چاہتے ہیں تو پھر بلاگ کو ای میل سے سبسکرائب کریں، تصدیقی ای میل کو کنفرم کریں تاکہ اگلی تحریریں آپ سے چھوٹ نہ جائیں۔

نوٹ: تحریر کا دوسرا حصہ یہاں پڑھا جاسکتا ہے۔

 

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

5 تبصرے

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں:

  • لیں جناب بلاگ سبسکرائب کر کے ہم نے آپ کی آن لائن آمدن میں حصہ ڈال دیا اب مید رکھتے ہیں کہ اچھی اچھی تحریریں اور مشورے ملتے رہیں گے 🙂

    • بلاگ کو پابندی سے پڑھیں۔ بہت سارے موضوعات ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک ہی مضمون میں سب کچھ نہیں لکھا جاسکتا۔ تفصیلاً ہر زاویے کو سمجھنا ضروری ہے۔