بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

کاروبار

آن لائن کارو بار – دو بنیادی اصول

سفید پوشی اس دور کے غموں میں سے سب سے بڑا غم ہے۔ اور اسے قائم رکھنا ملک کے ان معاشی حالات میں انتہائی ہمت کا کام ہے۔ آج سے قریب پانچ سال  ادھر کی بات ہے  جب ایکسپورٹ کے کام پر زوال آنا شروع ہوا تو کراچی میں  سونے کا کام کرنے والےچیخ اٹھے تھے۔ ہزاروں من سونے کی سالانہ  ایکسپورٹ کا رُک جانا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کاروبار - چند مغالطے

 ہم ابھی تک اسی گمان کو لے کر بیٹھے تھے کہ کراچی اور پاکستان میں سونے کے کام کی صنعت بہت بڑی ہے۔ لیکن جب یہ زوال دیکھا تو معلوم ہوا کہ پاکستان اس صنعت کے معاملے میں کھوکھلا ہوچکا تھا۔ ذرا سےی ایکسپورٹ بند ہونے کی دیر تھی کہ چودہ طباق روشن ہوئے۔  وجہ یہ تھی کہ حالات ناسازگار تھے۔ عورتیں سونا پہننا چھوڑ چکی تھیں کیونکہ شادیوں کے گہما گہمی کے ماحول سے براہِ راست ڈکیتیاں پڑ رہی تھیں۔ لوگوں کو بھرے بازاروں میں روک کر سونے کے زیورات کی چھینا جھپٹی  کے واقعات نے لوگوں کے دلوں میں خوف و ہراس برپا کر رکھا تھا۔

نتیجتاً لوگوں نے زیورات بنوانے سے بہتر یہ سمجھا کہ خالص سونے کے بسکٹ اور اینٹیں خرید کر رکھ لی جائیں اور جب بھاؤ بڑھے یا ضرورت پڑے تو بیچ دیا جائے۔ اس سے نقصان یہ ہوا کہ کاریگر اور کارخندار طبقے میں ماتم کی فضا چھا گئی۔ کیونکہ خالص سونا ایک مخصوص بھاؤ کے حساب سے بکتا ہے، جبکہ زیور کی خریداری ہی اصل بنوائی اور اجرت کا واحد ذریعہ ہوتا ہے۔

خیر پھر رفتہ رفتہ اس صنعت پر تنزلی ہی آتی چلی گئی۔ ہمارا کام ابھی ایسا بگڑا بھی نہیں تھا کیونکہ صدر کی مارکیٹ میں اکثر و بیشتر دکانوں پر ہمارے کام کی اچھی نکاسی تھی۔ لیکن کام کا خوفناک مستقبل دیکھتے ہوئے  مجھے مجبوراً اپنا آبائی اور خاندانی کام چھوڑ چھاڑ کر باہر نکلنا پڑا جو والد صاحب سنبھالتے رہے. یہ سال 2012 کی بات ہے۔ میں آن لائن انڈسٹری میں نیا نیا تھا۔

کچھ معلوم نہیں تھا کہ کہاں سے شروع کروں؟

کیا کروں؟

کیسے کروں؟

قدم کیسے جمائے جائیں؟

گائیڈ کون کرے گا؟

نظر اٹھا کر دیکھتا تو ہزاروں ٹیوٹوریلز، ہزاروں بلاگ آرٹیکلز، ہزاروں منہ اور لاکھوں باتیں۔

ہر Struggler کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن میں تو شاید struggler بھی نہیں تھا۔ اپنا جما جمایا کاروبار چھوڑ چھاڑ کر کچھ روپے لے کر اس ویب انڈسٹری میں آیا تھا۔ تب یہاں آن لائن دنیا کے حالات بھی ایسے برے نہیں تھے جیسے اب ہیں۔ نہ اس وقت کے بچوں میں اتنی عقل ہوتی تھی کہ سٹیفن آر کووے کے اس مشہور مقولے کو سمجھ سکیں جس میں وہ کہتا ہے کہ نتیجے کو ذہن میں رکھ کر شروعات کرنی چاہیے۔

(ویسے آپس کی بات ہے عقل آج کے بچوں میں بھی اتنی نہیں ہوتی۔)

اس لیے خود ہی بلی کا بکرا بننا تھا، سو بن گئے۔

ڈالر اس وقت بیاسی روپے کا ہوتا تھا۔ اور ہم نے ایک ہزار ڈالر اس اندھی دنیا میں جھونک دیے۔

معلوم نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ اور نتیجہ وہی ہوا کہ سارے پیسے ڈوب گئے۔

کاروبار میں دماغ بہت چلتا تھا۔ کاروبار ہماری خاندانی سوغات جو ٹھہرا۔ لیکن یہ نقصان ناتجربہ کاری کی وجہ سے نہیں بلکہ ویب انڈسٹری کے بارے میں کچھ پتہ نہ ہونے کی وجہ سے ہوا تھا۔

اس دن ایک بات تو سیکھ لی تھی کہ کسی بھی انڈسٹری میں پیسہ لگانا ہو تو پہلے اس فیلڈ کے ہر ہر چوک اور ہر ہر گھاٹ کا پانی پینا ضروری ہے۔ اس کے بغیر سب کچھ بیکار ہے۔ آپ کے اپنے Employees ہی آپ کو بیچ کر کھا جائیں گے اور آپ کو پتہ بھی نہیں لگ سکے گا۔

چنانچہ کاروبار پر پیسہ لگانے کے لیے سب سے پہلے اس دنیا سے واقفیت ضروری ٹھہری۔ تحقیق شروع کی اور صبح شام اسی مقصد کے لیے جد و جہد میں لگ گیا کہ آخر آن لائن دنیا میں پیسہ کمانے کا وہ کونسا راستہ ہے جسے اختیار کیا جائے تو نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ اپنی تحقیق کے بنیادی دو نکات یہاں اس تحریر میں آپ کے ساتھ شئیر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ واضح رہے کہ یہ وہ نکات یا وہ خطوط ہیں جن پر تقریباً ہر آن لائن کاروبار کا انحصار ہوتا ہے، یا ہونا چاہیے۔

یکسوئی

کاروبار، چاہے وہ آن لائن ہو یا آف لائن۔ دونوں ہی میں ایک مشترک چیز ہے۔ بلکہ شاید آن لائن کاروبار میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور وہ چیز یکسوئی ہے۔ لیکن یکسوئی سے کیا مراد ہے؟ کیا میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کام پر توجہ دیں؟ وہ تو ظاہر ہے کہ جب آپ کام شروع کریں گے تو توجہ دیں گے ہی۔ لیکن یہاں یکسوئی کے معنی کچھ مختلف ہیں۔

در اصل آن لائن کاروبار شروع کرنے والوں میں سب سے زیادہ اس معلومات کی کمی ہوتی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر پیسہ کمائیں گے کہاں سے۔ جب تک آپ یہ طے نہیں کر پاتے کہ انٹرنیٹ آپ کو پیسہ کس طرح دے گا تب تک آپ اس سے ایک روپے کا سکہ بھی مستقل طور پر نہیں کماسکتے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک ویب سائٹ بنائیں گے، اور اس پر اشتہارات لگا دیں گے اور پیسوں کی بارش ہونا شروع ہو جائے گی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ کسی ویب سائٹ سے اشتہارات کی بنیاد پر پیسہ کمایا تو جاسکتا ہے، لیکن وہ پیسہ اتنا نہیں ہوگا جتنا کہ آپ توقع کرتے ہیں۔ درجِ ذیل تصویر کو دیکھیے۔

یہ میرا ایڈسینس اکاؤنٹ جو میری ایک ویب سائٹ سے جُڑا ہے۔ یہ ایک ہائی پروفائلڈ مائکرو  بلاگنگ کا تجربہ تھا  جس کے قریب تمام قارئین امریکہ اور کینیڈا سے ہیں۔ ویب سائٹ پر روزانہ کی بنیاد پر ڈھائی سے تین  ہزار افراد آتے ہیں اور کوئی پانچ سے سات ہزار پیج ویوز ہوتے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ اگر اس قدر ہائی پروفائلڈ ویب سائٹ جس کی اکثریت امریکہ اور کینیڈا سے ہو، وہ اشتہارات سے مہینے کے  صرف پچیس سے تیس ہزار روپے دے رہی ہے تو ایک پاکستانی ویب سائٹ، جو اردو میں ہو، جس کی زبان کی نہ تو مارکیٹ ویلیو ہے، نہ جغرافیائی حیثیت سے اس کی قیمت، اس سے آپ کتنا کما سکتے ہیں؟

اور یہ تو صرف ایک بات ہے۔ اس طرح کی ہزاروں افواہیں اور بے بنیاد تصورات ہیں جو ہمارے یہاں پیوست کرچکے ہیں۔ یعنی ہم ابھی اسی مرکز کے گرد طواف کر رہے ہیں کہ ویب سائٹ بنائیں گے، اس پر اشتہارات چلائیں گے اور پیسہ کمائیں گے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اشتہارات چلاکر کچھ ڈھنگ کی رقم کمانے کے لیے آپ کو کم از کم بیس ہزار افراد روزانہ اپنی ویب سائٹ پر لانے پڑیں گے تو کچھ بن پڑے گا۔ تو سب سے ضروری یہ امر ہے کہ جو بھی کام آپ آن لائن شروع کررہے ہیں اس کے بارے میں کچھ منصوبہ بنائیں کہ آپ کمائیں گے کن بنیادوں پر۔

مخاطبین (آڈینس) طے کرنا

یہ بھی ایک بہت بڑی اور بنیادی بات ہے جس کی طرف لوگ دھیان نہیں دیتے۔ اور وجہ یہ ہے کہ وہ کاروبار کی بنیادی حکمتِ عملی اور فنکشنل میکانیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ آپ کا مخاطب کون ہے اور وہ آپ کی کتنی پہنچ میں ہے یہی بات یہ طے کرتی ہے کہ آپ اپنے کاروبار میں کس قدر کامیاب رہیں گے۔ چنانچہ کاروبار کی منصوبہ سازی میں سب سے پہلے طے کرنے کا امر یہ ہے کہ خود سے درج ذیل سوال کریں:

  • آپ کے مخاطب کون لوگ ہیں؟
  • یہ مخاطب لوگ آپ کو ملیں گے کہاں سے؟
  • کیا آپ کی کوئی موجودہ آڈینس ہے؟
  • کیا آپ کی موجودہ فالوونگ یا ریڈر شپ وہی ہے جو آپ کو اپنے کام یا کاروبار  کے لیے درکار ہے؟
  • آپ اس آڈینس کو مستقبل میں کیا خدمات فراہم کریں گے؟
  • کیا یہ موجودہ آڈینس آپ کی سروسز یا مصنوعات کو خریدنے میں دلچسپی لے سکتی ہے؟ اگر ہاں تو کیوں؟

جب تک آپ ان باتوں کا ایمانداری سے کوئی ٹھوس جواب نہیں دے دیتے    تب تک آپ کوئی قابلِ ذکر کام سر انجام نہیں دے سکتے۔ اگر آپ کی تاحال کوئی آڈینس نہیں ہے تو بنائیں۔ اگر آڈینس ہے، مگر وہ موزوں نہیں ہے تو آڈینس بدلیں۔ کیونکہ جب تک آپ کے پاس اس بات کا  یک سطری جواب نہ ہو کہ آپ انٹرنیٹ پر کیا کام کریں گے اور وہ کس کے لیے ہوگا تب تک آپ کی ساری کوششیں رائگاں رہیں گی۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  کاروبار اور ویب سائٹ کی ضرورت

آڈینس بنانے کا ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ ایسی ویب سائٹس کے لیے مضامین لکھیں جس کے قارئین زیادہ ہوں اور وہ  مصنف خانے میں مصنف کی ویب سائٹ یا  رابطے کا لنک لگاتی ہو۔  واضح رہے کہ ان ویب سائٹس پر صرف انہی موضوعات پر  معلوماتِ عامہ کے مضامین لکھیں جو آپ کے کاروبار سے متعلق ہوں۔ یہاں سے آپ کو ایک اچھا رسپانس ملے گا اور آپ کے قارئین اور مخاطبین میں اضافہ ہوگا۔

خلاصۂ کلام

اگر آپ واقعی کاروبار کا خواب دیکھتے ہیں تو سب سے ضروری یہ ہے کہ ایک مناسب کاروباری منصوبہ بندی اورایجنڈا لے کر مارکیٹ میں آئیں۔ آپ کے سامنے واضح اہداف ہونا ضروری ہیں کہ آپ کس طرح سے پیسہ کمانے والے ہیں۔ یہ اہداف آپ کی راہ کو متعین کریں گے اور آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ نے کام کس طرح کرنا ہے۔

اگلے مضامین میں انہی باتوں کو مزید پھیلا کر اس بات کو دیکھا جائے گا کہ انٹرنیٹ پر لفظ  “مصنوعات” کا کیا مطلب ہے؟ اور کس طرح ایک کاروبار کی منصوبہ بندی کرکے اسے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

اگر آپ نے بلاگ کو ای میل سے سبسکرائب نہیں کیا تو ابھی کیجیے تاکہ اگلی تحریریں آپ سے رہ نہ جائیں۔

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

6 تبصرے

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں:

  • پاکستانی آڈئینس کا تجربہ کیسا ہے؟ موضوعات دلچسپی اور تعداد کی لحاظ سے؟

    • آڈینس آڈینس ہوتی ہے۔ چاہے کسی بھی ملک سے ہو۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا پاکستان سے آپ اپنے مطلب کی آڈینس اکھٹی کر رہے ہیں یا غیر متعلقہ لوگوں کو جمع کر رہے ہیں۔ مثلاً اگر آپ کا پراڈکٹ نوجوانوں کے کام کا ہے اور آپ نے ادھیڑ عمر کے لوگ اکھٹے کر لیے ہیں تو آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
      اسی طرح اگر آپ کا پراڈکٹ کاروباری افراد کے لیے ہے، اور آپ نے ملازمت پیشہ لوگ یا وہ لوگ اکھٹے کرلیے جو کاروبار میں دلچسپی نہیں رکھتے تو بھی بے کار ہے۔
      آڈینس میں ٹھیک وہی افراد ہونے ضروری ہیں جو آپ کے پراڈکٹ کو خریدنے کا امکان رکھتے ہوں۔