بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

انٹرنیٹ

ارن رائٹنگ اردو کا افتتاح

تو جناب! وہ وقت آگیا ہے— کہ جسے آنا ہی تھا۔ اردو بلاگ کے حوالے سے ذہن میں بھی تھا اور آپ میں سے بہت سے دوست یاروں سے ذکر بھی کیا تھا جس پر بہت حوصلہ افزا رد عمل دیکھنے میں آیا۔ نتیجتاً میں نے اپنی تمام مصروفیات کو مؤخر کرکے سب سے پہلے بلاگ بنانے پر توجہ دی اور الحمد اللہ آج اس سلسلے کا باقاعدہ آغاز اس پوسٹ سے ہو بھی گیا ہے۔

آج کچھ باتیں انٹرنیٹ کے حوالے سے ہو جائیں تو شاید بہتر ہوگا۔ ویسے تو آپ، میں اور اربوں لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس کی پیچیدگیوں کو سمجھنے والے افراد انتہائی کم نظر آتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا انتہا کی حد تک حیران کُن ہے۔ اس دنیا میں آ کر جو گم ہو جاتا ہے اس کے لیے امکان یہ ہے کہ تا دمِ آخر گم ہی رہتا ہے۔ لیکن جو اس دنیا میں کسی اہم مقصد کے حصول کے لیے آتے ہیں انہیں یہ دنیا کبھی خالی ہاتھ نہیں چھوڑتی۔

ابھی یہ کل ہی کی سی بات لگتی ہے جب انٹرنیٹ کی سہولت حاصل کرنے لے لیے گھنٹوں لینڈ لائن کی تار لے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنی پڑتی۔ مختلف قسم کے سافٹ وئیرز اور ہارڈ وئیرز کے ساتھ انٹرنیٹ کارڈز کا استعمال۔ پھر طرہ یہ کہ اگر نیٹ چل رہا ہو تو فون استعمال نہیں ہوسکتا تھا اور اگر فون کام کرے تو نیٹ نہیں کام کرتا تھا۔

آج سے دس سے پندرہ یا بیس سال اُدھر کی دنیا جھانک کر دیکھا جائے تو انٹرنیٹ کا پُرکشش ترین استعمال یہی تھا کہ علاقے کا کوئی پڑھا لکھا بندہ مائکروفون والا بڑا سا ہیڈ فون لگا کر یاہو میسینجر یا ایم ایس این میسینجر پر چیٹنگ کرتا ہے۔ جب کہ علاقے کی اکثریت کو اس بات کا قطعاً علم نہ ہوتا کہ وہ بے چارہ تو ابھی الٹے سیدھے ای میل ایڈریس سرچ باکس میں ڈال انہیں ایڈ کرنے مصروف ہے جو کبھی آن لائن بھی نہیں آتے۔ اور غلطی سے کوئی آن لائن آ جائے اور چٹ چیٹ شروع بھی ہو جائے تو کوئی چھ مہینے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی حسینہ کی آئی ڈی میں چھپا عبد الغفور تھا۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  اردو ویب سائٹس، بلاگنگ اور مالی پریشانیاں

ہزارہا تاروں میں الجھا ہوا کسی ڈبے کی شکل کا پینٹیم ون یا پینٹیم ٹُو کمپیوٹر اس وقت جدت کی اعلی ترین مثال تھا۔ صبر کا وہ عالم تھا کہ مت پوچھیے۔ ایک ویب سائٹ لوڈ ہونے میں آدھا پونا منٹ لگ جانا ایک عام سی بات ہوتی۔ اور اس پر بھی اگر انٹرنیٹ یا کمپیوٹر سست ہو تو الامان والحفیظ!

پھر انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا کو سہولیات کے ایک ایسے منظرنامے سے روشناس کروایا جو شاید کسی وہم و گمان تک میں نہیں تھا۔ دیکھتے دیکھتے یہ انٹرنیٹ کی دنیا کہاں سے کہاں نکل جائے گی اس بات کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ اب حال یہ ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں چار ارب کے قریب انٹرنیٹ کے صارفین ہیں۔ جبکہ دنیا کی کُل آبادی آٹھ ارب کے قریب ہے۔ گویا دنیا کی آدھی آبادی انٹرنیٹ کسی نہ کسی مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہ مقصد کچھ بھی ہو اس سے ہمیں غرض نہیں۔ غرض اس بات سے ہے کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اگر ایک جگہ جمع ہو جائے تو کونسا ایسا کام ہے جو ممکن نہیں؟ کونسی ایسی چیز ہے جو یہاں بیچی نہیں جاسکتی؟ کونسا ایسا ہنر ہے جس کے بدلے میں اجرت اور معاوضہ نہیں لیا جاسکتا؟ اگر فہرست ترتیب دی جائے تو غالباً ایسی بہت کم ہی چیزیں مل سکیں گی جنہیں انٹرنیٹ پر پیچا نہیں جاسکتا۔

حالیہ تحقیقات کو دیکھا جائے تو سال 2016 میں دنیا بھر سے قریب “بیس ہزار کھرب ڈالرز” لوگوں نے صرف آن لائن شاپنگ کی مد میں خرچ کیے ہیں۔ جبکہ 2017 کے اختتام تک یہ پیسے کی یہ مقدار اس سے کافی زیادہ ہو جانے کا امکان ہے۔ گزشتہ کئی سالوں کی مسلسل رپورٹ اسی بات کا اظہار کرتی ہے کہ لوگ شاپنگ مال اور سٹورز کی طرف رخ کرنے سے زیادہ آن لائن شاپنگ میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اور یہ دلچسپی مسلسل پڑھتی ہی جارہی ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  میں نے نوکری کا خیال دل سے کیوں نکالا – چار اہم وجوہات

اس کی وجہ کیا ہے؟ سیدھی سادھی سمجھ میں آنے والی وجہ شاید یہی ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال جوں جوں بڑھتا جارہا ہے، توں توں سہولیات کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ روایتی خرید و فروخت کا معیار یہ ہے کہ علاقے کی جس دوکان پر سب سے زیادہ بھیڑ ہو، لوگ اسی دوکان کا رُخ کرتے تھے۔ لیکن اب یہ روایت بدل چکی ہے۔ آن لائن مارکیٹنگ میں بھیڑ کی بجائے رویوز (reviews) کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔ ریٹنگ کو دیکھا جاتا ہے۔ سروس کی کوالٹی، پراڈکٹ کی بر وقت فراہمی اور کسٹمر سپورٹ وغیرہ ایسے معیارات ہیں جو ڈجیٹل مارکیٹ میں ایک کاروبار کا مستقبل طے کرتے ہیں۔

لیکن بات صرف یہیں تک ہی نہیں رُکتی۔ فری لانسنگ کام سے لے کر کانٹینٹ مارکیٹنگ تک، افلئیٹ مارکیٹنگ (Affiliate Marketing)  کی جہان سے لے کر سوشل میڈیا کیمپینز (campaigns) تک، بلاگنگ کی دنیا سے سرچ انجن مارکیٹنگ کی پوری سائنس تک اگر نظر اٹھا کر دیکھا جائے تو ہر جانب روپے پیسے کا وہ طوفان کھڑا آپ کا منتظر ہوتا ہے کہ خامہ انگشت بدنداں اور ناطقہ سر بگریباں ہونے کو در پے ہوتا ہے۔ اس سراپا حیرت دنیا کے جس سِرے کو اٹھائیں گے وہاں سے حیرت کا ایک نیا جہان نکل کر آپ کے سامنے آتا چلا جائے گا۔ اور ہر ہر سِرے کے ہزاروں اور لاکھوں زاویے ایک نئی داستان کو ایک نئے منظر نامے کے ساتھ پیش کرتے ہوئے ملیں گے۔

ہم ان زاویوں میں سے اکثر کو لے کر اس بلاگ پر ایک ایک کرکے پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ چونکہ یہ پہلی تحریر ہے، تو وضاحت کرنا مناسب لگتا ہے۔ بہت عرصے سے درست موقع کی تاک میں تھا کہ کب صحیح وقت آئے اور میں اردو میں آن لائن مارکیٹنگ، آن لائن ذرائعِ آمدنی اور دیگر متعلقہ موضوعات پر ایک عدد بلاگ شروع کروں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  یہ پانچ باتیں 35 سال کی عمر سے پہلے جاننا ضروری ہیں

ویسے تو یہ موضوع اس قدر وسیع ہے کہ کہ انگریزی میں پائے جانے والے آن لائن دنیا کے بلاگز اور ویب سائٹس کا ایک وسیع و عریض رقبہ اسی موضوع سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن اردو کیوں کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں ابھی تک اپنے قدم ٹھیک سے جما نہیں سکی ہے تو اس موضوع پر کوئی مستند، لائقِ اعتبار اور شائستہ معلومات کا ذخیرہ اردو میں آن لائن دستیاب نہیں ملتا۔ میری کوشش یہ ہوگی کہ وقتاً فوقتاً جو جو باتیں میرے ذہن اور علم میں آتی رہیں انہیں موضوع بنایا جائے اور ان پر لکھا جائے۔ تاہم انسان ہونے کے ناطے خطا کا پورا پورا امکان ہے۔

مجھے یہ بات کہنے میں قطعاً کوئی عار نہیں کہ میں کوئی پروفیشنل انٹرنیٹ مارکیٹر، ڈویلپر، پروگرامر یا انٹریپرینیور نہیں ہوں۔ اس لیے یہ درخواست رہے گی کہ متعلقہ شعبے سے وابستہ جو بھی احباب اپنے علم اور تحریروں سے ہمیں اور ہماری آڈینس کو فیض یاب کرنا چاہیں وہ ضرور کریں تاکہ سب کو سیکھنے اور سمجھنے کا موقع مل سکے۔

آخر میں یہ گزارش ہے کہ آپ میں سے جو جو احباب سنجیدگی سے بلاگ کو فالو کرنا چاہتے ہیں وہ درجِ ذیل خانے میں اپنا ای میل ایڈریس درج کریں، آپ کو ایک تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ وہاں اسے کنفرم کریں تاکہ آپ کو ہر نئی تحریر بذریعہ ای میل مل سکے۔

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

19 تبصرے

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں:

  • اولا مبارک باد سے اپتداکرتاہو ں
    ثانیا کیا ہی بہترین موضوع یاعبوان انتخاب کیا منطقی اتار سے ہو نابھی چاہیے
    ثالثا جو بھی کو شش کرتا ہے ” وسیعا مشکورا” کے حقدار ہواہے
    آخرا اس جرات مندانہ اعمال کو افادہ عام دعا کتابوں آمین
    فرقان برہان

  • السلام علیکم محترم مزمل بھائی
    آپ کے اردو بلاگ کی پہلی تحریر پڑھی۔بہت خوب لگی۔ وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نےبہت اہم موضوعات کو زیر بحث لایا ہے۔آن لائن ذرائع آمدن اور کمائی کے حوالے سے بہت سا مواد یوٹیوب پر ویڈیوز کی صورت میں موجود ہے۔ممکن ہے اردو بلاگز بھی موجود ہوں لیکن میری نظر سے کوئی ایسا بلاگ نہیں گزرا۔اس حوالے سے آپ کا بلاگ بہت مفید رہے گا۔ شستہ اردو میں بامقصد نپی تُلی بات کرنا آپ کا خٓا صہ ہے ۔ جو کہ سنجیدہ قارئین کو ضرور اپنی طرف متوجہ کرے گا۔ میں ذاتی طور پر گرافک ڈیزائینرہوں ۔آن لائن ورک کر کے ارننگ کی خواہش رکھتا ہوں۔امید کرتا ہوں کہ آپ کے بلاگ کے توسط سے مجھے مزید رہنمائی ملے گی۔ جزاک اللہ احسن الجزا

    • وعلیکم السلام.
      سفیان صاحب مجھے خوشی ہے کہ اپ کو یہ ادنی سی کوشش پسند آئی. میری کوشش ہوگی کہ جتنا سہل انداز میں بات کی جاسکتی ہے اتنی کروں. اور توقع کرتا ہوں کہ آپ کو یا کسی دوسرے قاری کو مایوسی نہ ہو.
      سلامت رہیں.

  • السلام علیکم
    ماشاءاللہ بہت خوشی ہوئی میں خود اپنا چھوٹا سا ایک کام ہے جو کہ میں آن لائن کرتا ہوں. فیس بک پر ایک پیج بنایا ہوا ہے اور اس پر اپنی سروسز کے حوالے سے پوسٹ کر کے اسےبوسٹ کر دیتا ہوں کچھ ادائیگی کرنا پڑتی ہے لیکن بہترین رسپانس ملتا ہے اور میرا کام چل رہا ہے اب میں مزید اس کام کو ویب سائیٹ بنا کر بڑھانا چاہ رہا تھا.
    اب اس حوالے بھی آپ سے رابطہ رہے گا
    جزاک اللہ خیر
    والسلام
    محمد عامر

  • ماشاء اللہ بہت خوشی ہوئی یہ بلاگ دیکھ کر ان شاء اللہ اب اسے نظر میں رکھوں گا
    اتنا خوبصورت بلاگ بنانے پر مبارک باد قبول کریں

  • ماشاءاللہ مزمل بھائی۔ بہت مسرت ہوئی آپکے بلاگ کا تعارف جان کر۔ ان شاءاللہ مستفید ہونے کا نقد ارادہ ہے۔