بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

بلاگنگ

بلاگ یا ویب سائٹ؟ کس سے پیسہ کمایا جائے

بہت سے دوست یہ سوال کرتے ہیں کہ بلاگ اور ویب سائٹ میں کیا فرق ہے اور اس میں سے کونسا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ فائدہ مندی سے مراد یہی ہے کہ آیا بلاگ سے زیادہ پیسہ کمایا جاسکتا ہے یا پھر ویب سائٹ سے؟ دونوں میں سے کس کی اہمیت زیادہ ہے اور کیوں؟ ان سوالات سے پہلے دونوں کی ہیئت، ساخت اور مقاصد کو سمجھ لینا  زیادہ بہتر ہے۔

ایک ویب سائٹ در اصل آن لائن موجود ویب پیجز کا ایک مجموعہ ہوتا ہے۔ یعنی ویب سائٹ ایک عمومی اصطلاح ہے جس سے مراد انٹرنیٹ پر موجود کسی بھی ڈومین پر کوئی بھی ویب پیجز کا مجموعہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کی ایک روایتی ساخت ہوتی ہے جس کی بنیاد پر ہم بلاگ کو ویب سائٹ سے الگ تصور کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر ویب سائٹ کی  کچھ نشانیاں درجِ ذیل ہیں:

1۔ ویب سائٹ میں ایک عدد سرورق یا ہوم پیج  ہوتا ہے جو ویب سائٹ  کے مختلف سیکشنز یا شعبوں میں کھلتا ہے۔
2۔ ویب سائٹ  کے پیجز میں تبصرہ خانہ نہیں ہوتا۔
3۔ ویب سائٹ کے پیجز پر تاریخ یا مصنف کا نام نہیں نظر آتا۔
4۔ ویب سائٹ عموماً کسی کاروبار یا کمپنی کی بنیادی معلومات فراہم کرتی ہے۔
5۔ ویب سائٹ پر سروسز، عام پوچھے جانے والے سوالات، پرائسنگ اور بلاگ وغیرہ کے سیکشنز موجود ہوتے ہیں۔

بلاگ کے حوالے سے یہ باتیں یاد رکھیں:

1۔ بلاگ کی تحریریں تاریخ اور مصنف کے نام کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔
2۔ بلاگ بار بار اپڈیٹ ہوتا ہے۔جبکہ ویب سائٹ کو ایسے اپڈیٹ نہیں کیا جاتا۔
3۔ بلاگ میں تبصرہ خانہ ہوتا ہے جس سے قاری اپنے رائے کا اظہار تبصرہ خانے میں کر سکتا ہے۔
4۔ بلاگ   پر عموماً سروسز یا کاروباری معلومات موجود نہیں ہوتیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی یاد رکھیں کہ آج کی نیوز سائٹس در اصل بلاگ ہی کہ ایک مسخ شدہ شکل ہیں۔ یہ عام بلاگ سے ہزاروں گنا زیادہ تیزی سے اپڈیٹ ہوتی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ  اس میں ہر دس منٹ بعد کوئی نئی خبر آرہی ہوتی ہے۔ اسے آپ ویب سائٹ اور  بلاگ سائٹ کے بعد تیسری شکل یعنی نیوز سائٹ کا نام دیتے ہیں۔ اس میں بھی بلاگ کا الگ خانہ ہوتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  کاروبار کے لیے ویب سائٹ کی ضرورت

عام طور پر بلاگ کی دو قسمیں ہو سکتی ہیں۔ بلاگ یا تو ایک ہی موضوع (single niche)  پر ہوگا یا ایک سے زیادہ موضوعات (multi-niche)  پر ہوگا۔ ہمارے یہاں خصوصاً اردو زبان میں ایسے  بلاگ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے جو صرف ایک ہی موضوع پر لکھے جاتے ہوں۔ اگر ایسے بلاگ ہیں بھی تو اس قدر کم ہیں کہ جن کا شمار ہونا نہ ہونا برابر ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آپ کو کس قسم کا بلاگ شروع کرنا چاہیے جو آپ کے لیے فائدہ مند ہو؟

غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ دو سے ڈھائی سالوں میں پے در پے ایک دو نہیں بلکہ بیسیوں ویب سائٹس اور نیوز سائٹس اردو زبان میں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ ان میں سے کئی ایسے بھی سامنے آئے جو کچھ ہی عرصے میں یو ٹرن لے کر اپنی ویب سائٹ سے دستبردار ہو گئے اور کچھ ابھی تک کوششوں میں  لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح ویب سائٹ کے ذریعے  ریوینیو جنریٹ کیا ۔ کچھ مشہور  ویب سائٹس کے اونرز نے مجھ سے  بذاتِ خود رابطہ کرکے شکایت کی کہ یہ ڈویلپرز بڑے دوغلے ہوتے ہیں۔ ویب سائٹ سے  جتنا ریوینیو جنریٹ ہوتا ہے وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ کیا جاسکے۔ اور کچھ کی شکایت یہ ہوتی ہے کہ ٹریفک ہے لیکن ریوینیو جنریٹ کرنے کا طریقہ نہیں معلوم۔

میں پہلے بھی تفصیلی طور پر لکھ چکا ہوں کہ کسی ویب سائٹ یو بلاگ وغیرہ سے کمانے کے لیے آپ کے پاس ریوینیو جنریشن کی ایک مستقل پالیسی اور پلاننگ ہونی ضروری ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ویب سائٹ سے منافع حاصل کرنے کے لیے ٹریفک لانا ضروری ہے لیکن  پریشانی یہ ہے کہ ہمارے یہاں نئی ویب سائٹ شروع کرنے والے کے ذہن میں ہوتا ہے کہ میری فرینڈلسٹ اور فالوونگ میں اگر پچیس ہزار لوگ ہیں تو بس میں آن لائن ریوینیو جنریشن کی تمام حدیں عبور کر لوں گا۔ وہم ہے آپ کا کہ منافع صرف اور صرف ٹریفک لا کر آسکتا ہے۔ واضح رہے کہ میں اس وقت اردو زبان میں بنی ہوئی ویب سائٹس یا بلاگ کی بات کر رہا ہوں۔

دو باتیں سمجھیے:

اگر آپ واقعی ریوینیو جنریٹ کرنا چاہتے ہیں تو سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ ایک واضح طے شدہ دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو جمع کیجیے۔ یہ کیسے ہوگا؟ یہ صرف اس وقت ہوگا جب آپ کا موضوع طے شدہ ہوگا۔ اور یہ کام صرف اور صرف بلاگ پر ہوسکتا ہے۔ بلاگ بنائیے۔ کوئی بھی ایسا موضوع منتخب کیجیے جس پر آپ مستقل بنیادوں پر لکھ سکتے ہوں۔ ایسی آڈینس تیار کیجیے جو آپ کو روزانہ خود سے بلاگ کا ایڈریس براؤزر کے ایڈریس بار میں ڈال کر پڑھنے آتی ہو۔ اور مزے کی با ت یہ ہے کہ  لوگوں کو اپنے ساتھ انگیج کرنے کا اس سے زیادہ بہتر راستہ آج تک گورے بھی نہیں ڈھونڈ سکے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کارو بار – دو بنیادی اصول

اب سوال یہ ہے کہ آیا وہ پانچ ہزار کا ٹریفک جو ایک غیر متعین موضوع کی ویب سائٹ پر آتا ہے وہ بہتر ہے یا وہ پانچ سو یا ہزار لوگوں  کا ٹریفک جو ایک طے شدہ  موضوع کی ویب سائٹ پر؟

یقیناً آپ کہیں گے کہ پانچ ہزار والا ٹریفک بہتر ہے۔

لیکن آپ کا جواب غلط ہے۔ کیوں؟

در اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک سے زیادہ موضوعات والے بلاگ  کے قارئین مخلص اور مستقل نہیں ہوتے۔ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ جب ایسے بلاگ کی کسی تحریر کا لنک سوشل میڈیا یا کہیں اور شئیر کیا جاتا ہے تو دیکھنے والوں کی ایک مخصوص تعداد اس لنک کو شعوری یا لاشعوری طور پر کھول تو لیتی ہے، لیکن یہ وزٹر پہلے تیس سیکنڈ میں پیج کو بند کرکے جب ویب سائٹ سے فرار ہوتا ہے تو آپ کی ویب سائٹ کا  باؤنس ریٹ  بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں ریوینیو جنریشن تو خیر چھوڑیے، آپ کی ویب سائٹ کی گلوبل  ریپوٹیشن پر بھی کافی اثر پڑتا ہے۔

ریوینیو جنریشن میں سب سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ جو بھی وزٹر آپ کی ویب سائٹ یا بلاگ پر آئے وہ کم از کم تیس سیکنڈ سے کچھ زیادہ توقف اختیار کرے۔ یہی وہ بنیادی معیار ہے جو آپ کو قیمتی وزٹر اور بے کار وزٹرکا فرق بتائے گا۔ اب اگر آپ اپنی ویب سائٹ کو اکیلے ہینڈل کر رہے ہیں تو سب سے بہتر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ موضوع طے شدہ ہو اور آڈینس بھی متعین شدہ ہو۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کا باؤنس ریٹ بہت نیچے آجائے گا۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن فری لانسنگ - ایک تعارف

دوسری بات یہ کہ طے شدہ موضوع پر بلاگ لکھنا آڈینس ریٹنشن کا سب سے آسان اور تیز ترین طریقہ ہے۔ اور یہی وہ سٹریٹیجی ہے جو گلوبل مارکیٹ میں ہر مارکیٹر کے پیشِ نظر ہوتی ہے۔یعنی لوگوں کو وہ موواد فراہم کرنا جس کے وہ بذاتِ خود طلبگار ہوں۔ جب آپ ایک موضوع پر اپنی نیک نامی بنا لیتے ہیں، تو اس کے بعد انٹرنیٹ پر ہر بھولا بھٹکا آپ کی طرف رجوع کرنا شروع کردیتا ہے۔ یہ رجوع کرنے والے کبھی بھی آپ کی ویب سائٹ سے باؤنس نہیں ہوتے۔ نتیجتاً  اس بلاگ کی ریوینیو جنریشن میں چاہے آپ اشتہارات سے پیسہ کما رہے ہوں، اس موضوع سے متعلق کوئی کتاب لکھ رہے ہوں، یا کوئی سروسز  یا پراڈکٹ فراہم کررہے  ہوں، آپ کے نام کی بنیاد پر لوگ اسے توجہ دیتے ہیں اور خریدتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ  اگر آپ کے پاس کوئی بڑا سٹاف نہیں، آپ اکیلے ہیں تو ایک سے زیادہ موضوعات پر لکھنے کا آپ کو کبھی بھی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ ایک سے زیادہ موضوعات والے بلاگ صرف اسی صورت میں فائدہ دے سکتے ہیں جب آپ کم از کم بیس ہزار روز کا ٹریفک اپنی ویب سائٹ پر لاسکیں۔ بصورتِ دیگر کوئی ایک موضوع چنیں۔ اس سے پیسہ کمانے کی مکمل حکمتِ عملی ایک کاغذ یا گوگل ڈاکس پر ترتیب دیں اور اس موضوع کو مستقل بنیادوں پر انٹرٹین کریں۔ آپ کو کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

7 تبصرے

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: