بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

کاروبار

کاروبار اور ویب سائٹ کی ضرورت

جب بھی کاروبار کی بات آتی ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کو سب سے پہلے کسی دوکان یا کسی ایسی جگہ کی ضرورت ہوتی ہے جہاں آپ کا کسٹمر آپ سے رابطہ کرکے آپ کی مصنوعات یا خدمات حاصل کر سکے۔ اس جگہ کے بغیر آپ کوئی بھی کاروبار شروع نہیں کرسکتے۔ یہاں تک کہ ایک پھیری والا سبزی فروش بھی ایک ٹھیلہ لے کر چلتا ہے جس سے اس کی پہچان قائم ہوتی ہے اور لوگ دور سے دیکھ کر یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہاں وہ کچھ بیچ رہا ہے۔

گویا جب تک آپ کے پاس ایسی کوئی جگہ نہ ہو جو کسٹمر کو پہلی ہی نظر میں یہ باور کرا سکے کہ آپ کوئی کام کر رہے ہیں تب تک کاروبار کی ابتدا بھی ممکن نہیں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کاروبار - چند مغالطے

آن لائن کاروبار میں ویب سائٹ اس دوکان یا ٹھیلے کا قائم مقام ہوتی ہے جسے آپ اپنی مصنوعات یا خدمات فراہم کرنے کے لیے بطور ذریعہ استعمال کرتے ہیں۔ جب تک یہ ذریعہ نہ ہو تب تک  کسی مناسب کاروبار کی امید آپ کم از کم آن لائن دنیا سے نہیں کر سکتے۔  اس کی چند وجوہات ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

1۔ معتبر موجودگی

آن لائن دنیا میں  اگر آپ ایک معتبر شناخت چاہتے ہیں تو یہ انتہائی ضروری ہے کہ آپ کی اپنی ویب سائٹ موجود ہو۔ یہ صرف کاروبار ہی کی نہیں بلکہ غیر کاروباری حیثیت میں بھی بہت ضروری ہے کہ لوگ اگر  آپ کے کام، آپ کی تجارتی، غیر تجارتی یا سماجی سرگرمیوں کو  دیکھنا اور پڑھنا چاہیں تو ان کے لیے ایک مکمل ٹھکانہ موجود ہو اور جہاں سرچ انجن جیسے گوگل کی مدد سے پہنچا جاسکے۔

2۔ سوشل میڈیا ویب سائٹس ایک پریولیج (privilege)  ہوتی ہیں

سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایک ان  کا کوئی مسلسل اعتبار نہیں ہے۔لطف کی بات یہ ہے کہ اس بات کا مجھے بہت عرصے سے احساس ہے کہ سوشل میڈیا ویب سائٹس پر کوئی بھی سنجیدہ کام شروع کرنا اپنی جان کو عذاب میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ لیکن اس کے باوجود فیس بک کی حد تک کئی سارے کام کر تا رہتا ہوں۔ البتہ انتہائی ہائی وولٹیج کا جھٹکا اس رات لگا  جب میری آئی ڈی کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور دوسرے دن  فیس بک نے اسے سیکیورٹی ایشو بنا کر ڈس ایبل کردیا۔ معلوم نہیں تھا  کب تک ریکور ہونی ہے۔ مجھے سب سے زیادہ فکر اس وقت صرف اپنے  کورس گروپ کی لاحق تھی جہاں مارکیٹنگ کورس کروا رہا ہوں اور سٹوڈنٹس میرے لیکچرز ایکسس نہیں کر پارہے تھے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کارو بار – دو بنیادی اصول

یہ وہی بات تھی جو میں تقریباً ہر رائٹر اور ہر انفلیونسر کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ فیس بک یا کوئی بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ آپ کا اپنا گھر نہیں ہے۔ یہ تو ایک بھٹیار خانہ ہے۔ ایک وقت کی تکیہ نشینی کرو اور گھر کی جانب چل پڑو۔

 

کوئی بھی سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ ایک پریولیج (privilege) یا پروٹوکول ہوتا ہے۔ اور یہ بات ان سوشل میڈیا ویب سائٹس کی پالیسیز میں شامل ہوتی ہے کہ یہاں پبلش کردہ سارے کانٹینٹ کے مالکانہ حقوق صرف انہی  کے پاس ہیں۔ چنانچہ آپ کبھی کوئی مقدمہ ان کے خلاف نہیں لڑ سکتے۔ آپ کی چاہے کتنی ہی بڑی فالوونگ ہو، کتنا سسٹمک طریقے سے آپ چل رہے ہوں، فیس بک آپ سے یہ پریولج چھین لے تو آپ کبھی شکایت نہیں کر سکتے۔

یہیں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ویب سائٹ یا بلاگ کیوں بنایا جائے۔ کیونکہ وہ آپ کی اپنی چار دیواری ہے جہاں بیٹھ کر آپ کو کبھی یہ احساس ملامت نہیں کرتا کہ کوئی کسی بھی وقت آپ کو آپ کے گھر سے نکال باہر کردے گا۔

کیا سمجھے؟

 

3۔ لوگوں کی آپ تک رسائی بہت بڑا فائدہ ہے

کسی سوشل نیٹ ورک کی ویب سائٹ پر آپ کیا تیر مار رہے ہیں یہ بات آپ کے اپنے فالوورز اور شاید کبھی کبھار ان کے میوچول دوستوں کو معلوم ہو جاتی ہے۔ یہ حد ہے جس کے آگے آپ کی پروفائل نہیں جاتی۔ تاہم ایک ویب سائٹ کسی آوارہ جگنو کو بھی اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔ سرچ انجن کا  استعمال اس وقت اتنا  زور پکڑ چکا ہے کہ حالیہ رپورٹ کے مطابق اب نوے فیصد سے بھی زائد لوگ کوئی بھی چیز خریدنے، بیچنے، پڑھنے، پڑھانے، اور معلومات حاصل کرنے کے لیے سرچ انجن کا استعمال کرتے ہیں۔

مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اگر آپ ایک لکھاری یا ایک تاجر ہیں اور آپ کے پاس آپ کی اپنی ویب سائٹ نہیں ہے، تو آپ ہزاروں  روپے مہینہ کچرے کے ڈبے میں اپنے ہاتھ سے ڈال رہے ہیں۔ مجھے اس بات کا ہرگز اندازہ نہ ہوتا اگر میں یہ تجربہ خود نہ کر بیٹھا ہوتا۔ ابھی کچھ عرصے پہلے ہی کی بات ہے جب میں نے اردو بلاگ بنانے کا طریقہ اپنی دوسری ویب سائٹ پر لکھا تھا۔ اس کا وقتی رد عمل لوگوں کی داد اور تعریف کے علاوہ کچھ نہ آیا، لیکن میری  ویب سائٹ کے مقبول ترین مضامین میں سے وہی ایک مضمون ہے جس پر سرچ انجن سےاچھا خاصا ٹریفک آتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک صاحب جو مجھے کسی بھی واسطے سے نہیں جانتے تھے، انہوں نے مضمون کی اشاعت کے تین ماہ بعد مجھ سے رابطہ کیا کہ ویب سائٹ بنوانی ہے۔ اس کے بعد پے در پے کئی اور لوگوں نے رابطے کیے جس میں مجھے قریب ڈھائی  لاکھ روپے کا فائدہ ہوا۔ جب کہ دیکھا جائے تو میری  ویب سائٹ پر تمام لاگت ملا کر بھی تیس ہزار روپے سے زیادہ نہیں بنتی۔ مزے کی بات یہ کہ میں نے اس پر ایک بھی اشتہار نہیں لگایا تھا۔

یہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ فری لانس کرنے کے خواہش مند حضرات بھی کس حد تک فائدہ حاصل کرسکتے ہیں اگر ان کے پاس ایک عدد ویب سائٹ ہو۔ آپ کے کام کا نمونہ آپ کی ویب سائٹ پر سب سے زیادہ بہتر انداز سے نمایاں ہوتا ہے۔ اور تمام ہی بڑے فری لانسرز ویب سائٹ کو بہت زیادہ ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کی اہمیت کیا ہے۔

خلاصۂ کلام

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ ایک فضول خرچی ہے جو آپ کی استطاعت کے باہر ہے تو آپ ابھی تک اندھیرے میں ہیں۔ صرف پاکستان ہی کا جائزہ لیا جائے تو  بنوانے کی لاگت کو ہٹا کر ویب سائٹ کا خرچ آپ کے ماہانہ ٹیلیفون کے بل سے بھی کم ہے۔ اگر ایک ہزار روپے مہینہ دے کر آپ ایک بہتر ویب سائٹ مینٹین کرسکتے ہیں تو یہ آپ کے معاشی مستقبل کو طے کرنے کا ایک نہایت ہی اہم ذریعہ ہے۔ بس ذرا ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہے۔

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: