بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

کاروبار

آن لائن پیسے کمانے کے پانچ حقیقی طریقے

آن لائن پیسے کمانا جتنا آسان ہے، اتنا ہی مشکل بھی۔اصولوں کی پابندی کریں تو آسان، ورنہ تقریباً ناممکن۔ آپ کے خیال میں آن لائن پیسے کمانے کے موضوع پر انٹرنیٹ پر کتنے مضامین موجود ہوں گے؟
سینکڑوں؟
ہزاروں؟
لاکھوں؟
ہوسکتاہے ہماری توقعات سے بھی زیادہ۔۔۔۔۔
لیکن ان میں زیادہ تر کے ساتھ ایک مسئلہ ہے!

یہ مضامین اپنے اختتام تک پہنچ کر کہتے ہیں کہ یہ تو ایک تعارف ہے۔ اگر آن لائن مارکٹنگ سیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارا یہ کورس کریں، سیمینار میں شرکت کریں یا ہم سے فلاں کتاب خرید لیں اور کروڑ پتی بن جائیں۔اگرچہ یہ طریقہ بہت زیادہ غلط بھی نہیں ہے مگر اس میں دو مسائل ہیں:

1۔ ان لوگوں کے لئے مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے جو کسی وجہ سے یہ سب کچھ نہیں کر سکتے۔

2۔اس میں گمراہ کن حد تک جھوٹ شامل ہوتا ہے کہ۔

  • آن لائن مارکٹنگ کوئی بھی تھوڑا بہت وقت دے کر با آسانی کر سکتاہے
  • آن لائن مارکٹنگ سے بہت جلد کروڑپتی بنا جاسکتاہے
  • آن لائن مارکٹنگ کے لئے انویسٹمنٹ کی ضرورت نہیں ہے
  • آن لائن مارکٹنگ کیلئے نظم و ضبط کی ضرورت نہیں ہے

یہ تحریر بھی پڑھیں:  اردو ویب سائٹس، بلاگنگ اور مالی پریشانیاں

اس طرح کے لوگوں کی وجہ سے آن لائن پیسے کمانے کا نام بدنام ہوا ہے۔ اتفاقات ہر شعبہ میں ہوتے ہیں، یہاں بھی موجود ہیں۔ ان اتفاقات یامستثنیات کو اصول نہیں کہا جا سکتا، جیسا کہ اپنی پروڈکٹ بیچنے کیلئے کیا جاتا ہے۔اس کے باوجود آن لائن پیسہ کمانا ناصرف ممکن ہے بلکہ کروڑوں لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ کما بھی رہے ہیں۔

آن لائن پیسہ کمانے کے جائز طریقے بھی موجود ہیں مگر ان کے ساتھ مسئلہ وہی ہے کہ ان کی مدد سے راتوں رات امیر نہیں بنا جاسکتا۔ البتہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ ترقی ہوتی ہوئی اپنی آنکھوں سے ضرور دیکھی جاسکتی ہے۔

آج میں آپ کو وہ جائز یا درست طریقے بتاؤں گا جن کی مدد سے آپ آن لائن پیسے کما سکتے ہیں۔اب چاہے آپ اپنے گھر میں بیٹھ کر کام کرنا چاہتے ہیں یا اپناکاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، آپ کرسکتے ہیں۔

اب جبکہ ہم جائز طریقوں کی بات کر رہے ہیں تو آپ کو سب سے پہلے تو کام کو کام کی طرح کرنا پڑے گا، کم از کم اس طرح جس طرح پابندی کے ساتھ ملازمت کرتے ہیں۔آن لائن کام شروع کرنے سے پہلے اپنے اندر کچھ خوبیوں کو پیدا کریں ، اس کے بعد ان طریقوں کے مطابق کام کریں جو بیان کئے جائیں گے۔

کام کوسنجیدگی سے کریں

جس طرح ٹی شرٹ اور شارٹ میں آپ سوتے ہیں، اٹھ کر اسی میں کام شروع کرسکتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کام سنجیدگی کا طالب نہیں ہے۔اگر آپ کام کو سنجیدہ نہیں لیں گے تو یہ کام بھی آپ کو سنجیدہ نہیں لے گا۔آپ اکیلے نہیں ہیں جو ٹی شرٹ اور شارٹ میں اپنے ڈرائنگ روم یا بیڈ روم میں بیٹھے کام کررہے ہیں، لاکھوں اور لوگ بھی اسی حالت میں کام کررہے ہیں۔ کام آپ کے لئے رکے گا نہیں، کہیں اور چلا جائے گا۔لوکل مارکیٹ سے زیادہ مقابلہ آن لائن مارکیٹ میں ہے۔

پیشہ ورانہ رویہ اپنائیں

جب بھی اپنا پروفائل یا تحریر کسی کو بھیجیں تو گرامر اور الفاظ کو پیشہ ورانہ انداز میں پیش کریں۔ جملے اور الفاظ مکمل لکھیں۔مستثنیات کی بات الگ ہے،حقیقت یہی ہے کہ سب سے پہلے آپ اپنے الفاظ کی بنیادپر ہی پرکھے جائیں گے۔آپ جب بھی کچھ بولتے یا لکھتے ہیں تو اپنے متعلق لوگوں کی آرا کو تخلیق کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کاروبار میں اہم چیز آپ کا امیج بھی ہے، جو بہت حد تک آپ کے الفاظ کا تابع ہے۔

ساری معلومات فراہم مت کریں

چاہے آپ تحریر ی نمونے (writing samples)  پیش کر رہے ہیں ، اپنے فن پاروں  کا مجموعہ ہویا اپنے کاموں کا لنک ، اپنے کاموں کے متعلق معلومات (پورٹ فولیو) مختصر مگر واضح مثالوں سے تو پیش کریں مگرساری معلومات مت دیدیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنے کام کی بیک گراؤنڈ کہانی بتانا چاہیں تو بتادیں، اپنی زندگی کی کہانی سنانے مت بیٹھ جائیں۔

غلطیوں کو پھر دیکھ لیں

ہم کچھ بھی لکھتے یا پڑھتے ہیں تو ہمارے دماغ کی رفتار ہمارے لکھنے ، پڑھنے کی رفتار سے بہت تیز ہوتی ہے، اتنی تیز کہ ان میں دور دور تک مقابلہ نہیں۔ اس لئے ہم لکھتے لکھتے عموماً بہت ساری غلطیاں کر دیتے ہیں۔ میں نے اپنی کتاب’’ شکریہ ‘‘ چار مختلف لوگوں کو پروف ریڈنگ کے لئے دی، یہ چاروں لوگ پروف ریڈنگ کے ماہر تھے، اس کے باوجود پہلے ایڈیشن میں درجنوں غلطیاں موجود تھیں۔ہم ٹی وی چینلز اور اخبارات میں ہرروز متعدد غلطیاں دیکھ رہے ہوتے ہیں، ان سے بچنے کا یہی طریقہ ہے کہ غلطیوں کا ایک مرتبہ سرسری نہیں، گہری نظر سے جائزہ لیں۔ کسی بھی کمپنی یا شخص کا نام اگر غلط لکھ دیا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ کا خراب تاثر قائم ہوجائیگا۔اسے آپ اس طرح سمجھ لیں کہ اس تحریر کے دوران آپ نے کوئی غلطی دیکھی ہے تو آپ کا ذہن کہاں کہاں بھٹکا ہے۔ اگر آپ اردو میں کام کر رہے ہیں تو آپ کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کیونکہ انگریزی کی غلطیوں کی نشاندہی کے تو بہت سے سافٹ وئر ہیں، اردو کے اتنے مقبول یا جامع نہیں ہیں ۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کاروبار - چند مغالطے

اب ہم ان پانچ طریقوں کا تذکرہ کریں گے جن کی مدد سے آپ آن لائن پیسے کما سکتے ہیں۔

1۔ کس طرح کی ویب سائیٹس سے کمائیں

اس وقت دنیا میں ایک ارب سے زائد ویب سائیٹس ہیں۔اور یہ سب کچھ گزشتہ بائیس ،تئیس برس کے مختصر سے عرصہ میں ہوا ہے۔ 1994 میں صرف تین ہزار ویب سائیٹس آن لائن تھیں۔ اندازہ کریں کہ اتنے مختصر سے عرصہ میں سوا تین سو کروڑ گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے، سوا تین سو گنا۔لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ60 سے 75 فیصد تک ویب سائیٹس غیر فعال ہیں، یہ ایسی ویب سائیٹس ہیں جنہیں یا تو کسی ایک شخص نے بھی نہیں دیکھا اور ختم ہوگئیں یافروخت کیلئے رکھی ہوئی ہیں۔

مختلف قسم کی ویب سائیٹس کی مدد سے آپ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر شاپنگ کی، سروے کی یا مصنوعات کو پرکھنے کی۔ میں آپ سے یہ نہیں کہوں گا کہ ان کی پروموشن کریں تو یہ سائیٹس آپ کو کروڑ پتی بنا دیں گی۔ ہاں، میں یہ ضرور کہوں گا کہ اس طرح کی سائیٹس آپ کی آمدنی میں اضافہ ضرور کر دیں گی۔

اب یہ رقم کس طرح کمائی جا سکتی ہے اس کے لئے تھوڑی محنت آپ کو کرنی پڑے گی۔ کیونکہ اسے آپ کل وقتی کاروبار بنا سکتے ہیں۔دو ، تین دن پوری ایمانداری کے ساتھ گوگل پر جائیں اور تحقیق کریں۔ فیس بک یا دوستوں کی مدد سے ان لوگوں کو ڈھونڈیں جو پہلے سے ہی ویب سائیٹس سے کما رہے ہیں۔ میں بھی کچھ سائیٹس کا حوالہ دے سکتا ہوں، مگر یہ عمل آپ کے شوق اور ذمہ داری میں اضافہ نہیں کرسکے گا۔جب آپ خود ڈھونڈیں گے ایک طرف میری باتوں کی صداقت پر یقین بڑھ جائے گا تو دوسری طرف آپ کی بصارت(vision) میں بھی اضافہ ہوگا۔

2۔ لکھ کر رقم کمائیں

فری لانس رائٹنگ آن لائن کمانے کا ایک زبردست طریقہ ہے۔بہت سے کامیاب فری لانس رائٹرز آدھے سے ایک ڈالر فی لفظ لیتے ہیں، کچھ اس سے دگنا بھی ۔ لیکن یہاں تک پہنچنے کیلئے محنت اور عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ کوپورٹ فولیو، ریسیومے اور بہت کچھ تیار کرنا پڑتاہے۔اگر آپ کی لکھنے میں دلچسپی ہے تو یقینا آپ یہ بات جانتے ہونگے۔ اگر دلچسپی نہیں ہے تو آپ کے لئے مخلصانہ مشورہ یہی ہے کہ اس طرح سے پیسہ کمانے کا خیال دل سے نکال دیں۔لکھنے کیلئے آپ کو سنجیدگی اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔لکھنے کی صلاحیت آپ کو مالدار بناسکتی ہے لیکن صرف اس صورت میں جب آپ کو لکھنے سے محبت ہو۔

جب بھی آپ فری لانس رائٹنگ کے کام کیلئے کمپنیز کے پاس جائیں تو آپ کے پاس ویب سائٹ اور بلاگ ضرور ہونا چاہئے۔یا آپ اپنے آن لائن پورٹ فولیو کو استعمال کر سکتے ہیں۔ لنکڈان (LinkedIn) سے ہی شروعات کر یں۔

ان کے علاوہ بہت ساری ویب سائیٹس ایسی ہیں جہاں سے لکھنے کا کام با آسانی مل سکتاہے۔ اس کیلئے بھی آپ کو یہی مشورہ ہے کہ دو دن مختص کریں، صرف تحقیق کرنے کے لئے۔اس کے علاوہ ان لوگوں کو ڈھونڈیں جو فری لانس رائٹنگ کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں۔

3۔اپنی چیزیں بیچیں

جب سے آن لائن کاروبار کا تصور آیا ہے ، آن لائن فروخت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔دلچسپی بہت سارے لوگ رکھتے ہیں مگر شروعات بہت کم کرپاتے ہیں۔ میں نے اپنی کتاب ’’شکریہ‘‘ کا آدھے سے زیادہ ایڈیشن آن لائن فروخت کیا ہے۔ آپ اپنی پروڈکٹ یا اپنے مزاج کے مطابق کوئی بھی شے فروخت کر سکتے ہیں۔آپ ہول سیل مارکیٹ سے سستے داموں لے کر مناسب منافع لے کر اشیاء کو با آسانی فروخت کر سکتے ہیں۔ اس کام کیلئے کوئی بہت بڑے سرمائے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہت تھوڑے سرمائے سے سینکڑوں کام شروع کئے جاسکتے ہیں۔ ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم لمبی لمبی چھلانگیں لگانا چاہتے ہیں۔اس لئے زخمی ہوکر طویل عرصہ کیلئے بیٹھ جاتے ہیں۔ آن لائن فروخت کے لیے  درج ذیل کام کرنا بھی ضروری ہیں۔

  • اکائونٹ کھولیں

اس کام کیلئے سب سے پہلے بینک، ایزی پیسہ وغیرہ اکاؤنٹ کھول لیں۔ اور بالکل واضح طور پر سمجھ لیں کہ لین دین کیلئے کیا طریقہ اختیار کریں گے۔ پاکستان پوسٹ کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے یا ٹی سی ایس، پینتھر وغیرہ کے مختلف پیکیجز کی بھی معلومات لی جاسکتی ہے۔

  • اچھی اچھی تصاویر لیں

اپنی پروڈکٹ کی اچھی تصاویر لیں۔ خراب یا خراب کوالٹی کی تصاویر آپ کا برا امیج بنائیں گی۔جیسے ہی کام چلنا شروع ہو، سب سے پہلے اچھا سا کیمرا خریدیں اور لائٹس لے لیں۔ اچھا کیمرہ اور لائٹس آپ کی فروخت کو کتنا بڑھا سکتے ہیں، آپ کو اندازہ نہیں ہے۔

  • ایمانداری سے کام کریں

اگر آپ پرانی اشیا ٔ کی فروخت کر رہے ہیں تو جھوٹ بول کر کبھی بھی نہیں بیچیں۔ اگر نشانات پڑے ہیں یا کوئی خرابی ہے تو پہلے سے آگاہ کردیں۔اس طرح ایک طرف تو آپ آنے والی پریشانیوں سے بچ جائیں گے اور دوسری جانب کسٹمرز کے منفی ریویوزسے بھی بچیں گے۔

  • آن لائن اسٹورز اور فیس بک

آپ اپنی پروڈکٹ مختلف آن لائن اسٹورز پر رکھ سکتے ہیں۔ ایسے اسٹورز آپ سے ایک مخصوص رقم یا پرسنٹیج طے کر لیتے ہیں اور پھر شے  فروخت ہونے کے بعد رقم آپ کو دے دیتے ہیں۔  بہت آسان طریقہ یہ ہے کہ فیس بک سے فائدہ اٹھائیں۔ دنیا میں اس وقت لگ بھگ دو ارب لوگ فیس بک استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان میں تقریبا تئیس فیصد لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ جن کی اکثریت فیس بک کی کنزیومر ہے۔ فیس بک سے پاکستان میں ابھی تک اس طرح فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ہے جس طرح ترقی یافتہ ممالک اٹھایا جا تا ہے۔ایک تو یہ طریقہ ہے کہ اپنی پروڈکٹ کو فیس بک پر تشہیر کے ذریعے فروخت کریں۔ دوسرا یہ ہے کہ اپنے ملنے والے یا کسی مارکیٹ میں جا کر بات کریں کہ آپ ان کی پروڈکٹ یا سروسز کی مارکیٹنگ کریں گے جس سے تھوڑی سی سرمایہ کاری سے ان کی فروخت میں اضافہ ہو سکتاہے۔ اس کیلئے انہیں سہانے سپنے نہیں دکھائیں۔ انہیں بتائیں کہ دوسرے کاروبار کی طرح آن لائن کاروبار بھی وقت لیتاہے۔ پروڈکٹ کے حساب سے نتائج آنے میں وقت لگتاہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین کرلیں کہ فیس بک مارکٹنگ کوئی کامن سینس کا کھیل نہیں ہے۔ یہ ایک سائنس ہے، اسے سیکھنا پڑتا ہے۔ اس موضوع پر میرا مضمون “سوشل میڈیا مارکٹنگ۔۔۔ چھ بنیادی باتیں” کافی سودمند ثابت ہو سکتاہے۔

4۔بلاگنگ(Blogging)

 ایسا ہو نہیں سکتا کہ آن لائن پیسہ کمانے کی بات ہو اور بلاگنگ کی بات نہیں ہو۔ بلاگنگ پیسہ کمانے کے جائز اور موثر ترین طریقوں میں سے ایک ہے۔بلاگنگ ایک ایسا کام ہے جس کے لئے بھی صبر، مستقل مزاجی اور نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ یہ اس طرح سے ہے کہ آپ ایک سال تک مسلسل لکھتے رہیں اور پھر پیسہ آپ کے پاس آنا شروع ہوجائے۔کچھ لوگوں نے اس سے کم عرصہ میں بھی بہت کمایا ہے مگر عام طور پر اتنا وقت تو لگ ہی جاتا ہے۔ جب تک آپ کی ویب سائٹ پر لوگوں کا رش نہیں ہوگا، پیسے نہیں آئیں گے، اور لوگوں کا رش لگنے میں ٹائم لگتا ہے۔اگر آپ جلدی رش لگانے کی ترکیبیں جانتے ہیں تو دوسری بات ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  بلاگ یا ویب سائٹ؟ کس سے پیسہ کمایا جائے

جب آپ اچھی خاصی تعداد میں بلاگز لکھ لیتے ہیں تو پھر کمانے کا وقت شروع ہو جاتاہے۔درجِ ذیل طریقے ایسے ہیں جن کی مدد سے بلاگ سے پیسہ حاصل کیا جاتا ہے:

  • تشہیر یا ایڈورئائزنگ

یہ پیسے کمانے کا سب سے پرانا طریقہ ہے جس کی اہمیت تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے۔آپ اشتہار کیلئے اپنے پیج پر جگہ فروخت کر سکتے ہیں یا گوگل ایڈسینس ، میڈیاڈاٹ نیٹ  وغیرہ کے ذریعے اشتہار لے سکتے ہیں۔ اس سے اسی وقت کما سکتے ہیں جب آپ کی سائٹ پرہر روز ہزاروں لوگ آئیں۔

  • الحاق یا وابستگی

اس طرح آپ کسی اور کی پروڈکٹ یا سروس کا اشتہار اپنے پیج پر لگاتے ہیں اور ایک پرسنٹیج طے کرلیتے ہیں کہ ہر ہر فروخت پر آپ کا اتنا حصہ ہوگا۔ جب آپ کے بلاگ پر ٹریفک آنے لگ جائے تو تیزی سے آپ کی آمدنی میں اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ آپ کیلئے یہ بھی آسانی ہے کہ جس طرح کے موضوعا ت پر آپ لکھتے ہیں، اسی طرح کی مصنوعات کے ہی بینرز لگا سکتے ہیں۔

  • ممبر شپ

اگرچہ یہ آگے کی بات ہے مگر بات تو ہے۔ آپ اپنے بلاگ پر ممبرشپ لگا سکتے ہیں کہ اگر میرے بلاگ پڑھنا چاہتے ہو تو اس کیلئے ممبر شب لازمی ہے اور ممبرشپ کی یہ فیس ہے۔اگر آپ کا آئیڈیا بہت جاندار ہے تو ممبرشپ سے اچھی رقم کمائی جا سکتی ہے۔

  • مصنوعات اور خدمات

آپ اپنی مصنوعات (Product)بھی فروخت کرسکتے ہیں مثلا ای بک ،کمپیوٹر سافٹ وئر وغیرہ۔پھر آپ اپنے بلاگ کو انہیں فروخت کرنے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ خدمات فراہم کرسکتے ہیں مثلا کسی بھی موضوع پر ٹریننگ کرواسکتے ہیں ، کچھ سکھا سکتے ہیں، لائف کوچنگ کرسکتے ہیں یا کسی بھی قسم کی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ اس میں ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ آپ کسی ایسی بات کا دعویٰ نہ کریں جو آپ نہ کرسکتے ہوں یا کسی بھی قسم کے جھوٹ کا سہارا نہ لیں۔  اس سلسلے میں آپ کو یہ بات یاد رکھنی ہے کہ اگر ٹریفک ہوگاتو لوگ آئیں گے اور آمدنی ہوگی، ورنہ نہیں ہوگی۔

  • پیسے لے کر لکھنا

بہت سے ادارے اپنی مصنوعات ، خدمات یا تشہیر کیلئے بلاگرز کے محتاج ہوتے ہیں۔ اس میں دو طریقے اختیار کئے جاتے ہیں، بلا واسطہ اور بالواسطہ یعنی ڈائریکٹ اور انڈائریکٹ۔ڈائریکٹ طریقہ یہ ہے کہ کوئی کمپنی اپنی پروڈکٹ کے متعلق معلومات فراہم کرے اور آپ اس پر لکھ کر انہیں دے دیں۔ وہ اپنی وال پر پوسٹ کردیں اور پھر آپ اپنی وال پر بھی شئر کردیں۔ پڑھنے والے کو احساس ہو جائے کہ یہ بلاگ اس پراڈکٹ یا سروس کیلئے لکھا گیا ہے۔اس کے برعکس بالواسطہ یا انڈائریکٹ طریقہ یہ ہوگا کہ پڑھنے والے کو احساس بھی نہ ہو اور کسی پروڈکٹ کی خصوصیات بھی معلوم ہو جائیں۔ مثال کے طور پر آپ کھلے دودھ کے موضوع پر ایک بلاگ لکھیں جس میں دل کھول کر برائیاں کریں۔ بتائیں کہ سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے دودھ کو ٹیٹرا پیک کے ذریعے کس طرح غزائیت سے بھرپور اور صحت بخش انداز میں محفوظ کر کے ہم تک پہنچایا جا سکتا ہے۔جیسے فلاں کمپنی کو دیکھ لیں۔ کتنی احتیاط اور صفائی کے ساتھ یہ دودھ کو جمع کرتے ہیں ۔۔۔ اور پھر آخر میں لوگوں کو ان کی اور انکی اولاد کی صحت کی اہمیت پر دو لائنیں لکھیں اور پیسے اکاؤنٹ میں جمع کروا کر تھوڑا سا آرام کرلیں، کیوں کہ آپ تھک گئے ہونگے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  کیا آپ کا نیا کاروبار کامیاب ہوگا؟
  • ویڈیوز

اس وقت بہت بڑی تعداد ویڈیوز سے کما رہی ہے، مگر اس سے کہیں بڑی تعداد اس سے محروم ہے۔ بات بہت سادہ ہے۔ اگر آپ ایک دن ویڈیو بنائیں اور دوسرے دن صبح اٹھ کردیکھیں کہ آپ کا بنک اکائنٹ پیسوں سے لبالب بھر تو نہیں گیا ہے تو یہ بیوقوفی ہوگی اور اہم ترین بات یہ ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد یہی بے وقوفی کر رہی ہے۔ اپنا آئیڈیا سب کو اچھا لگتاہے، جس طرح اپنا بچہ سب کو اچھا لگتا ہے۔ لیکن دوسرے کے بچے آپ کو بہت کم پسند آتے ہیں۔ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن میں کچھ خاص بات ہوتی ہے۔ یہی کچھ ویڈیوز کے ساتھ ہوتا ہے۔آپ ویڈیوز بناتے جائیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ کام بہتر ہوتا چلا جائے گا۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کتنے ہی بلاگرز ایسے ہیں جنہوں نے لکھنے کو چھوڑ کر ویڈیوز بنانا شروع کر دی ہیں۔

5۔ دوسری  کمپنیز کیلئے کام کریں

بہت ساری کمپنیز ایسی ہیں جو  ان میں سے کسی ایک،متعدد یا تمام کاموں کیلئے لوگوں کو ملازمت پر رکھتی ہیں۔ اگر لگتا ہے کہ آ پ کو ملازمت کرنی چاہئے تو یہ بھی ممکن ہے۔ یہ بھی دو طرح سے ہوتا ہے، ایک تو یہ کہ کسی بھی ادارے میں جاکر نوکری کی جائے یا پھر اپنے گھر میں بیٹھ کر ہی سارے کام کر دئے جائیں۔ بس رابطے میں رہیں۔ ساتھ ہی فارغ اوقات میں اپنے بزنس کو بھی کچھ وقت دیں۔

اب آپ کو اچھی طرح اندازہ ہو گیا ہوگا کہ آن لائن کس طرح کمایا جاسکتاہے۔بتائے گئے طریقوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں جس میں آپ کی سب سے زیادہ دلچسپی ہو۔ اس کے متعلق مزید معلومات جمع کریں، مستقل پڑھتے رہیں۔ ایک وقت آئے گا کہ آپ کی رائے اورکام دونوں کی خوب اہمیت ہوگی۔ باقی لوگ اس لئے کچھ نہیں کر سکیں گے کہ ان میں صبر، مستقل مزاجی اور نظم و ضبط کی کمی ہے۔

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

identicon

محمد زبیر

محمد زبیر کرئیر کاؤنسلنگ، سیلف ہیلپ اور موٹیویشنل سپیکنگ کے آدمی ہیں۔ حالیہ طور پر سوشل میڈیا مارکیٹنگ کو بھی اپنا موضوع بنا چکے ہیں اور اس پر مضامین بھی لکھ رہے ہیں۔
"شکریہ" کے نام سے ان کی کتاب شخصی اصلاح کے موضوع پر ایک بہت عمدہ کتاب ہے۔

1 تبصرہ

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: