بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

کاروبار

پاکستان میں آن لائن کاروبار کے امکانات

پاکستان امکانات کا ملک ہے۔ اور ان امکانات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ عموماً ہم ایسے جملے اور فقرے  کہتے اور سنتے پائے جاتے ہیں کہ:

یہاں چانس نہیں ملتا۔
ٹیلنٹ کی قدر نہیں ہے۔
پاکستان کا کچھ نہیں ہوسکتا۔
پاکستان بد ترین ملک ہے۔ اس ملک میں کوئی ترقی ممکن نہیں۔
پاکستان میں رہتے ہوئے پیسہ کمانا ممکن ہی نہیں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کارو بار – دو بنیادی اصول

اور اس طرح کے ہزارہا فقرے اور لاکھوں باتیں ہمارے یہاں عام کی جاتی ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ ایسا کہنے والے سو فی صد غلط ہیں۔ لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ایسا کہنے والے اس لیے ایسا کہتے ہیں کہ انہیں پاکستان میں امکانات کی وسعت کا علم ہی نہیں ہے۔ در اصل آن لائن کاروباری صنعت میں پاکستان میں ابھی اس قدر امکانات ہیں کہ اگر آپ کو اس کا تھوڑا سا بھی اندازہ ہو تو آپ یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ آپ لاکھوں روپے مہینہ صرف اپنے روایتی کاروبار اور روایتی سوچ کی وجہ سے ضائع کر رہے ہیں۔

مثال سے سمجھاتا ہوں۔

تھوڑی دیر کے لیے گوگل گوگل کھیلتے ہیں۔ اب سرچ کیجیے “Online Marketing”  اور رزلٹ دیکھیے:

online marketing google search

غور سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ دس کروڑ سے بھی زیادہ نتائج اس چھوٹی سی تلاش پر ملتے ہیں۔

اب یوں کیجیے کہ گوگل ایڈ ورڈز کیورڈ پلانر (AdWords Keyword Planner) کھولیے۔اور اس میں امریکہ کی لوکیشن پر اسی کی ورڈ کو چیک کیجیے:

online marketing adwords

نظر آتا ہے کہ امریکہ میں اس کی ورڈ پر بہت زیادہ کامپٹیشن ہے۔ پندرہ ہزار مہینے کی سرچز اور کروڑوں لوگ اس کی ورڈ کے لیے کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر آپ اس کی ورڈ کے لیے اشتہار دیتے ہیں تو امریکہ کا  ایک کلک پندرہ سو روپے تک کا پڑسکتا ہے۔

اس کے برعکس اسی کی ورڈ کو پاکستان کے لیے سرچ کریں تو رزلٹ کچھ اس طرح آتا ہے:

online marketing Pakistan

گویا  سات سات یا ساڑھے سات سو افراد مہینے میں پاکستان سے اس کی ورڈ کے لیے سرچ کرتے ہیں۔ اور اس پر کامپٹیشن بھی انتہائی کم ہے۔ حالانکہ جس تعداد میں ویب پیجز انٹرنیٹ پر اس کی ورڈ کے لیے پائے جاتے ہیں، اس میں کامپٹیشن پاکستان سے بھی بہت زیادہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ اتنا کم کیوں ہے؟

جواب بہت سادہ سا ہے۔ یہاں لوگ ابھی تک آن لائن مارکیٹنگ اور آن لائن کاروبار کے بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں ہیں۔ آپ پاکستان کے کسی بھی شعبے میں چلے جائیں۔ یہاں تک کہ آئی ٹی اور انٹرنیٹ کی فیلڈ سے جڑے لوگ بھی ابھی تک آن لائن مارکیٹنگ، ویب انڈسٹری اور اس سے متعلقہ چیزوں کا علم نہیں رکھتے۔ اور یہ میں صرف سنی سنائی نہیں کہہ رہا بلکہ بیسیوں لوگوں سے بات چیت کرکے، ان سے مختلف سوالات پوچھ پوچھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہماری آئی ٹی فیلڈ میں بھی ایسے لوگ نہیں پائے جاتے جو مارکیٹنگ ٹیکٹکس اور باریکیوں  کو سمجھتے ہوں۔

وجہ کیا ہے؟

وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں لوگ ابھی تک پیسے کے ورچول یا آن لائن اکونومی کے تصور کو ہضم ہی نہیں کر سکے ہیں۔ انویسٹمنٹ کی بات آتی ہے تو اچھے اچھے کاروباری لوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ پر لگایا گیا پیسہ اور وقت آنکھوں کے سامنے  ظاہر نہیں ہوتا۔ ہمارے یہاں لوگ تب تک مطمئن نہیں ہو پاتے جب تک پیسہ، یا پیسے سے خریدا ہوا سامان ان کے ہاتھ میں نہ ہو۔ آن لائن سٹور، آن لائن سامان اور اس طرح کی دیگر آن لائن انویسٹمنٹ ہمارے یہاں لوگوں کے دلوں کو قبول نہیں ہو پاتیں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  بلاگ یا ویب سائٹ؟ کس سے پیسہ کمایا جائے

نتیجہ یہ ہے کہ روز بروز ہزاروں دوکانیں اور سیکڑوں کارخانے بند ہوتے ہیں اور وجہ پوچھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ دوکان اتنا بھی پیسہ نہیں دے رہی کہ بجلی کا بل ہی بھرا جاسکے۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو ترقی یافتہ ممالک میں آن لائن کاروبار کی دنیا اس قدر کامپٹیشن سے بھر چکی ہے کہ وہاں نیا کاروبار لے کر آنا اور اس میں کامیاب ہونا انتہائی مشکل ہے۔ پاکستان اس حوالے سے اب تک پیچھے ہے اور یہی اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہاں کامیابی کے امکانات ترقی یافتہ ممالک سے ہزاروں گنا زیادہ ہیں۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ آپ ذہنی طور پر کتنے تیار ہیں۔ یہاں کے آن لائن کاروبار کی حکمتِ عملی کو اٹھا کر دیکھا جائے تو جن لوگوں نے پاکستان میں آن لائن کاروبار شروع کیے وہ سب کہیں نہ کہیں سے کوئی آئیڈیا لے کر آئے تھے۔ آسمان سے کوئی نہیں اترا۔ اور اب ان کی کامیابی کی داستانیں دیکھ کر آنکھیں چندھیاتو ضرور جاتی ہیں لیکن کوئی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتا کہ آخر ان کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کاروبار - چند مغالطے

امتیاز سپر مارکیٹ ہو یا ٹی سی ایس کورئیر کی سروس، کریم یا اوبر  کی ٹرانسپورٹ سروس ہو یا پھر OLX اور Daraz.PK۔ نظر اٹھا کر دیکھیں تو  ان چند کمپنیوں نے پاکستان کی مارکیٹ میں وہ انقلاب برپا کیا ہے جس کی کوئی مثال  پچھلے سو سالوں میں بھی کہیں نہیں ملتی۔  اور ماجرہ یہ بھی نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی نیا آئیڈیا مارکیٹ کو دیا تھا۔ بات تو یوں ہے کہ انہوں نےدس دس سال پرانے آئیڈیا کو ایک ایسی جگہ اپلائی کیا جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔  اور پھر بات آئیڈیا ہی پر نہیں رکتی،  صرف OLX کی بات کی جائے تو معلوم ہوگا کہ مارکیٹنگ پر ابتدائی خرچ ساٹھ سے ستر لاکھ  روپے آیا تھا۔ لوگ مجھ سے یہ پوچھتے نہیں تھکتے کہ:

Sir! what is the best investment Idea in Pakistan?

دیکھا جائے تو کاروبار میں سب سے بڑی چیز ہے ہی مارکیٹنگ۔ اور اسی پر سب سے زیادہ پیسہ لگانا ہوتا ہے۔ اسی بات کو لوگ سمجھ نہیں پاتے اور پھر روتے ہیں کہ کامیابی نہیں مل رہی۔

یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ ایک نئی OLX شروع کریں۔ ضروری یہ ہے کہ جو کام بھی آپ کرتے ہیں اس کی آن لائن موجودگی کو ممکن بنائیں۔ لوگوں کو سہولت کی دنیا سے روشناس کروائیں۔   لوگوں کو اپنے کاروبار کے بارے میں بتائیں۔ ان کے لیے مشکلیں آسان کریں ۔ مارکیٹنگ اور اکانومی کے نئے آرڈر کو سیکھیں، سمجھیں اور اسے اپنے کاروبار پر اپلائی کریں۔یہی وہ واحد طریقہ ہے جو آج سے اگلے دس سالوں میں پاکستان کی نئی تقدیر کو نئے زاویوں سے لکھے گا۔ اور جو آج اسے نظر انداز کر جائے گا اس کے لیے مشکلات بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔  کیونکہ دنیا بدل رہی ہے۔اگر آپ بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو یہ حالات کا نہیں، آپ کا اپنا قصور ہے۔

اس سلسلے کی مزید تحریریں پڑھنے کے لیے میرے بلاگ کو درجِ ذیل خانے میں اپنا ای میل ڈال کر سبسکرائب کریں اور تصدیقی ای میل میں “Confirm Folllow” پر کلک کریں۔

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

2 تبصرے

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: