بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

بلاگنگ

کیا مفت بلاگ یا ویب سائٹ کے ساتھ پیسہ کمایا جاسکتا ہے؟

بہت سے دوست یار انباکس میں آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے بلاگ بنا لیا ہے لیکن پریشانی یہ ہے کہ اس پر کوئی آتا نہیں ہے۔ کہیں لنک شئیر کر بھی دی جائے تو کچھ یوزرز آتے ہیں ورنہ بلاگ ویران پڑا رہتا ہے۔ کوئی ہل چل نہیں ہوتی۔ بلاگ کا لنک  مانگنے پر پتہ چلتا ہے کہ تھرڈ پارٹی ہوسٹڈ بلاگ ہے جو مفت میں بنتا ہے۔

یہ ایسے بلاگز ہوتے ہیں جو مفت میں آپ کو ایک سب ڈومین (Subdomain) پر ایک عدد ڈائری سائٹ دیتے ہیں۔ ڈومین اس طرح کی ہوتی ہے:

Myblog.blogspot.com

myBLOG.wordpress.com

یا پھر اور کسی کمپنی کی ایسی ہی کوئی کامبنیشن۔ ورڈ پریس  ڈاٹ کام اور گوگل کا بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام جو سروس فراہم کرتا ہے وہ مفت ہوتی ہے۔ یہاں آپ مفت بلاگ بنا سکتے ہیں۔ اور اس میں اپنے مضامین ڈال کر لوگوں سے اپنے بلاگ کا لنک شئیر کر سکتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ ایک اچھا اور مفت آپشن ہے اور اکثر لوگوں سے جب ان کے بلاگ کا پوچھا جائے تو اسی کا لنک عنایت کرتے ہیں۔ لیکن کیا یہ والی بلاگ سروسز آپ کو کوئی فائدہ دے سکتی ہیں؟

جواب یہ ہے کہ اگر آپ کو صرف انٹرنیٹ پر ایک سپیس چاہیے جہاں آپ کچھ لکھ سکیں اور اسے ایک لنک پر جمع کردیں تو یقیناً یہ سروسز اچھی ہیں۔ لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ بلاگ یا ویب سائٹ کے ذریعے آمدنی کا ایک باوثوق اور معتبر ذریعہ شروع کریں تو اس کے لیے یہ بلاگ سروسز بالکل بے کار ثابت ہوتی ہیں۔

وجہ کیا ہے؟

یہ تحریر بھی پڑھیں:  بلاگ یا ویب سائٹ؟ کس سے پیسہ کمایا جائے

ذیل میں روشنی ڈالتے ہیں کہ آخر بڑے کاروبار جو ڈومین اور ہوسٹنگ پر اتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں کیا وہ پاگل ہیں؟جب ایک سروس مفت میں دستیاب ہے تو انہیں کیا پڑی ہے کہ ڈومین اور ہوسٹنگ پر پیسے خرچ کریں اور بلاگ یا ویب سائٹ کو مینٹین کرنے پر الگ انویسٹمنٹ اور محنت کریں؟

برانڈ معتبر ہوتا ہے

جی ہاں! برانڈ کی اہمیت ہوتی ہے۔ اگر آپ یہ بات نہیں جانتے اور نہیں سمجھتے تو جان لیجیے، سمجھ لیجیے۔ سب سے زیادہ اہمیت نام کی ہوتی ہے۔ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ  کیا بیچا جارہا ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ کس طرح بیچا جارہا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے کہ جو ہم اب تک اپنے روایتی تصورات کی وجہ سے نظر انداز کرتے آئے ہیں۔

جب آپ کسی کو اپنی کمپنی یا اپنے برانڈ کے بارے میں بتائیں اور ویب سائٹ میں آپ کے برانڈ پر کسی اور کی چھاپ ہو تو پروفیشنلزم تو ختم ہو ہی جاتا ہے، ساتھ میں یوزر کو ویب سائٹ یا بلاگ کھولتے ہوئے دقت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً کیا آپ اس بات کے لیے تیار ہیں کہ کسی معیاری یوزر کو ویب سائٹ یا بلاگ کے لیے یہ لنک دے سکیں:

Mycompany.blogspot.com

اگر آپ تیار ہیں تو پھر آپ کو اپنی مارکیٹنگ کی سمجھ بوجھ پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آپ برانڈنگ کو سمجھے ہی نہیں ہیں۔ میں اگر آپ کی جگہ ہوتا تو اس بلاگ سپاٹ کی چھاپ کو ہٹائے بغیر کسی پوٹینشل کسٹمر کو اپنا بلاگ نہیں بتا سکتا تھا۔ کیونکہ برانڈنگ کی اہمیت میرے نزدیک زیادہ ہے۔ اور اس پر اپنے علاوہ کسی کی چھاپ برداشت نہیں کرسکتا۔  پھر خود سے سوال کیجیے کہ اگر میں آپ کو اپنی ویب سائٹ کی دو ڈومینز کے نام بتاؤں:

Earnwriting.com

Earnwriting.blogspot.com

 تو  آپ کو ان دونوں ڈومینز میں سے کونسا نام زیادہ اچھے سے یاد رہے گا؟ کونسا نام ایڈریس بار میں لکھنے میں آسانی ہوگی؟کونسا نام بتانا زیادہ آسان ہے؟ پہلا یا دوسرا؟

چلیں یہ فیصلہ آپ پر ہی چھوڑتا ہوں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  کاروبار اور ویب سائٹ کی ضرورت

ہاں یہ بات الگ ہے کہ اگر غیر کاروباری سرگرمی کے لیے ہو تو ایک نہیں بیس بلاگ سپاٹ والے بلاگز بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ لیکن کاروبار پر کوئی کامپرومائز نہیں۔

مواد (content) پر حقوق کا مسئلہ بھی بہت سنگین ہے

جب آپ ورڈپریس، ٹمبلر، میڈیم یا بلاگ سپاٹ والا فری بلاگ یا فیس بک کی ٹائم لائن  استعمال کرتے ہیں تو سب سے پہلے تو آپ کو اپنے ان حقوق سے دستبردار ہونا پڑتا ہے جو آپ کے پاس اپنے تخلیق کردہ مواد یا کانٹینٹ کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ ساری سروسز اپنی پالیسی میں یہ بات شامل کرتی ہیں کہ ان کے ذریعے آپ جو بھی مواد شائع کریں گے اس پر آپ کے حقوق نہیں ہونگے بلکہ سروس فراہم کرنے والا ادارہ اس پر مکمل حق رکھتا ہے۔ چنانچہ آپ کا تمام تحریری، تصویری اور دیگر مواد جو بھی آپ نے ان سروسز پر شئیر کیا ہے تکنیکی زبان میں آپ کا نہیں رہتا۔

تمام فری بلاگ سروسز غیر معتبر ہیں

جی ہاں! ان تمام سروسز کے بارے میں آپ ایک دن کی بھی گارنٹی نہیں دے سکتے کہ جو بھی محنت اور جو بھی کام آپ اپنے بلاگ سپاٹ یا ٹمبلر یا پھر ورڈ پریس ڈاٹ کام کے مفت بلاگ پر کر چکے ہیں وہ کل کے دن بھی اسی طرح رہے گا یا نہیں۔ کیونکہ سروس کے مالکان یہ حق محفوظ رکھتے ہیں کہ کسی بھی غیر متوقع پالیسی وائلیشن کی بنیاد پر آپ کا بلاگ کبھی بھی ختم کردیں جسے آپ دوبارہ کبھی بھی ریکور (recover)  نہیں کرسکیں گے۔ یعنی ان کی بنیاد پر آپ نے جو کاروبار کھڑا کرنے کا سوچا یا سوچنے والے ہیں اس کی بنیادیں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں تو عمارت کیسے کھڑی ہوگی؟ یہ وہ نکتہ ہے جسے صرف ایک غیر کاروباری شخص ہی نظر انداز کر سکتا ہے۔

ویب سائٹ یا بلاگ میں ترمیم کے اختیارات

یہ  بھی ایک سنجیدہ  مسئلہ ہے۔ اگر آپ اوپر کی تمام باتوں پر متفق ہو کر گزارہ کر بھی لیں تو یہ ایک نیا موڑ ہے جو آپ کو فری بلاگنگ سے ہٹنے پر مجبور کرے گا۔ فری بلاگنگ سروسز میں ”بلاگ سپاٹ“ سروس  پر ترمیم کے سب سے زیادہ اختیارات ہیں۔ تاہم اس  کی بھی اپنی کئی حدود ہیں جو آگے زیرِ بحث آئیں گی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ آنے والے کو ویب سائٹ کی وہ شکل مکمل طور نہیں دے سکتے جو آپ دینا چاہتے ہیں۔ کونسی چیز کس وقت کہاں پر اثر انداز ہوگی یہ سمجھنا ویب سائٹ چلانے کی سائکولوجی میں ان بلٹ فیکٹر ہوتا ہے۔ اور جب تک آپ اپنے اختیارات میں بالکل آزاد نہ ہوں تب تک یہ ممکن نہیں ہو پاتا۔ فری بلاگنگ سروسز آپ کو آزاد نہیں چھوڑتیں۔ نتیجتاً آپ کا وزٹر کسٹمر میں کنورٹ ہونے سے بہت دور رہتا ہے۔

سرچ انجن کے مسائل

سرچ انجن ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی دنیا میں  سب سے بڑا دیوتا ہے۔ اس کے بغیر مارکیٹنگ بہت مشکل ہوتی ہے۔ اور اکثر اوقات میں ممکن ہی نہیں ہوتی۔ فری بلاگ سروسز میں عموماً یہ آپشنز موجود ہی نہیں ہوتے کہ آپ اپنے بلاگ کو سرچ انجن کے لیے اپنی مرضی سے ڈیزائن کرسکیں۔ اپنی مرضی کی ٹیکنیکس اپلائی کرسکیں۔ اکثر اوقات ہمیں ویب سائٹ کے لیے الگ ٹائٹل دینا پڑتا ہے، جبکہ سرچ انجن کے لیے الگ۔ میٹا ڈسکرپشن جو کہ آپ کو سرچ انجن رزلٹ میں نظر آتی ہے اسے فری بلاگ میں آپ اپنی مرضی سے نہیں لکھ سکتے۔ فیس بک یا سوشل میڈیا کا لنک پریویو (Preview)  آپ اپنی مرضی سے ڈیزائن نہیں کرسکتے۔ اگر ڈیزائن ہو بھی جائے تو بہت محدود اختیارات کے ساتھ ہوتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کاروبار - چند مغالطے

اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ آپ کی اپنی ٹاپ لیول ڈومین اہم ہے جو کہ اس طرح ہوگی:

Mycompany.com

Mycompany.net وغیرہ

یہ ٹاپ لیول ڈومین نیمز سرچ انجن کے لیے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام کے رزلٹس صرف اس صورت میں سرچ انجن میں اوپر آتے ہیں جب کسی ٹاپ لیول ڈومین پر متعلقہ موضوع کا کوئی مواد موجود ہی نہ ہو۔ آپ کی ذاتی ڈومین سرچ انجنز کو مکمل ڈیٹا فراہم کرتی ہیں۔ اس میں ڈومین کا رجسٹریشن پیریڈ، ڈومین کتنے عرصے سے آن لائن ہے اور دیگر معاملات جو ایک ڈومین کو معتبر ثابت کرتے ہوں، سب کے سب گِنے جاتے ہیں۔ نتیجتاً سرچ انجن آپ کی ڈومین کے معتبر ہونے اور بہترین مواد کی فراہمی کی وجہ سے آپ کو اوپر لے آتا ہے ۔ گویا ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ کو اپنے مضامین اور تحریر کے لنک شئیر کیے بغیر بھی سرچ انجنز کے ذریعے ٹریفک ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ جبکہ فری بلاگ میں یہ کام انتہا سے زیادہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کی ڈومین کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، نہ یہ اعتبار ہوتا کہ وہ کب تک آن لائن رہیں گی۔

خلاصۂ کلام

مفت بلاگ یا مفت ویب سائٹ  صرف اس صورت میں کارآمد ہے جب آپ بلاگنگ یا ویب سائٹ بنانے  کا شوق پورا کرنا چاہتے ہوں۔ لیکن اگر آپ  اسے آمدنی یا بزنس پلان کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہوں تو مفت بلاگ یا ویب سائٹ کا آئیڈیا بالکل بے کار اور بے مقصد ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ایک آپشن کی جگہ دوسرا آپشن استعمال کریں۔ مہنگے پلان کی جگہ تھوڑا سستا پلان استعمال کریں۔ لیکن دوسرا آپشن کوئی نہیں سوائے اس کے کہ کوئی بالکل مفت میں آپ کو کوئی ویب سائٹ تحفے کے طور پر بنا کر دے، اور بنانے کی لاگت، ڈومین اور ہوسٹنگ وغیرہ سب کا خرچہ خود اٹھائے۔ دوسری کوئی صورت نہیں۔

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

1 تبصرہ

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں:

  • قبل از وقت راہنمائی کابےحدشکریہ۔۔۔۔لیکن ذاتی ڈومین خریدی کیسے جائے؟طریقہ کار اور ذرائع؟؟