بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

خود کو بدلیں

میں مطالعہ کیسے کرتا ہوں

آج ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے کہ آپ جس موضوع پر بھی لکھتے ہیں، اتنا گہرا لکھتے ہیں کہ کہیں سے کوئی پکڑ ہی نہیں سکتا کہ لکھاری نو آموز ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس موضوع پر لکھنے والے نے برسوں مطالعہ اور مشق کی ہے۔ لیکن ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ کوئی شخص ایک ہی وقت میں دس پندرہ مختلف النوع موضوعات پر برسوں تک کیسے مطالعہ کرسکتا ہے؟ اور اگر مطالعہ نہیں کیا تو اتنی پختگی کیسے آتی ہے؟

میری گزارش:

مطالعہ، جستجو، لگن اور محنت پر ڈٹ جانا میری عادات ہیں۔ میری روٹین ہے کہ دن میں 20 گھنٹے کام کرتا ہوں اور چار گھنٹے سوتا ہوں۔ رات ڈھائی یا تین بجے سونا اور سات بجے اٹھنا، یہ سالہا سال سے معمول ہے۔ اور کبھی کبھی یہ لمحاتِ فراغت چار گھنٹوں سے سکڑ کر تین گھنٹوں میں بھی بدل جاتے ہیں۔

میں اکثر لوگوں کو کہتا ہوں کہ ایک وقت میں ایک کام کریں۔ تو سوال آتا ہے میاں آپ خود تو ایک وقت میں کئی سارے کام کرتے ہیں تو ہمیں یہ تلقین کیوں؟

جواباً یہ عرض کرتا ہوں کہ ایک وقت میں ایک کام سے مراد یہ ہے کہ ایک خاص پیریڈ میں ایک کام تک محدود رہیں۔ یہ پیریڈ دو مہینے کا بھی ہوسکتا ہے، دو سال کا بھی۔ لیکن جو بھی موضوع اٹھائیں اس میں ڈوب جائیں۔ اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔

پھر یہ سوال آیا کہ ایسے مطالعہ ہضم نہیں ہوتا۔

عرض کرتا ہوں کہ کتاب کا ہر ہر صفحہ حفظ کرلینا مقصود نہیں ہوتا۔ مطالعے کے بعد جو پیچھے دماغ میں باقی رہ کر مجموعی شعور کی کیفیت اختیار کرگیا، وہی اصل ہے۔ باقی سب بے معنی ہے۔ اور پھر عمل شروع ہوتا ہے۔ امیجنیشن شروع ہوتی ہے۔ تخئیل کی کار فرمائی کام کرتی ہے۔ جس موضوع پر بھی مطالعہ کر رہے ہیں اسکا اطلاق حقیقی زندگی میں کرکے چیزوں میں ربط دینا شروع کریں۔ اپنے مطالعے کو سود مند بنانے کے لیے مطالعہ کی گئی بات کا جب تک آپ رئیل ٹائم میں لنک نہیں بنا لیتے تب تک وہ آپ کو فائدہ نہیں دے سکتی۔ حقیقی فائدہ تب ہی ہوتا ہے جب آپ ایپلیکیبلٹی (applicability) کو سمجھ لیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو مطالعہ کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ کتابوں سے باہر آکر معاشرے کے لوگوں میں بھی بیٹھیں۔ ان سے بات چیت کریں۔ ان سے بات چیت کرنے پر تکنیکی باتوں کی اطلاقیت کا آدھا مسئلہ حل ہوجاتا ہے اور بعد میں سمجھ میں آتا ہے کہ جو بات آپ نے پڑھی تھی وہ یہاں اپلائی ہورہی ہے۔ تو مطالعہ ایک وقت میں دونوں چیزیں ڈمانڈ کرتا ہے۔ جب تک آپ ڈمانڈ پوری نہیں کریں گے یہ آپ کے قابو میں نہیں آئے گا۔ میرا معمول ہے کہ جس چیز کا مطالعہ کروں گا، تخئیل اور تصورات کو بھی اسی دھارے پر بہانا شروع کردیتا ہوں۔ ہر چیز کو اسی علم کے دائرے میں دیکھنا شروع کرتا ہوں۔ گھر سے لے کر بازار، خبروں اور یونیورسٹی تک۔ اسی کے بارے میں گوگل سرچنگ، اسی کے حوالے سے کتابیں پڑھنا، اسی کے بارے میں لکھنا، اور اسی کے لحاظ سے لوگوں سے باتیں کرنا اور اسی دائرے میں رہ کر سوالات کے جوابات دینا۔ اگر کسی کتاب یا مضمون میں کسی دوسری کتاب یا مضمون کا حوالہ آگیا تو اس کتاب کو بھی دیکھنا اور محولہ مضمون کو پڑھنا۔ یوں ایک کتاب مزید آٹھ کتابوں اور مضامین کے پڑھنے کا سبب بنتی ہے۔ یہ ہے جنون۔ پاگل پن۔ یا جو بھی آپ اسے نام دیں۔ یہ میرا طریقہ ہے جو میرے مطالعے کو میرے عمل کا حصہ بناتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  یہ پانچ باتیں 35 سال کی عمر سے پہلے جاننا ضروری ہیں

اور امکان یہ ہے کہ آپ کے لیے بھی یہ طریقہ وہی کام کرے گا جو کام یہ میرے لیے کرتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: