بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

خود کو بدلیں

اچھی نوکری اور تعلیم کا مقصد

پیسہ کمانے اور اچھی نوکری کی نیت سے پڑھائی کرنے والے نہ پیسے کی ہیئت کو سمجھتے ہیں نہ پڑھائی کے مقصد کو۔

ہمارے یہاں ایک بہت بڑی ذہنی پریشانی پائی جاتی ہے۔ اور وہ یہ کہ ہم زندگی کے اٹھارہ یا بیس سال تعلیم حاصل کر کے کسی بڑے کریانے یا کسی بڑے بڑھئی یا بڑے گوالے یا بڑے سیٹھ کے پاس تنخواہ پر کام کرسکتے ہیں لیکن اس محنت کا دسواں حصہ بھی اپنے کام کے لئے نہیں لگا سکتے۔ اور پھر مزے کی بات یہ کہ اب ہمارے پرسیپشنز بھی اسی حساب سے اس قدر سیٹ ہو چکے ہیں کہ اب ہم اس کے آگے مزید کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتے۔

فائیو سٹار ہاسپٹل
فائیو سٹار سکول، کالج
اور فائیو سٹار تعلیم کے اس تصور نے لوگوں کو اس قدر معذور بنا دیا ہے کہ اب کسی بھی طرح ہم اس نظام سے باہر آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  انجینئرنگ اور میڈیکل ہی آخری آپشن نہیں ہے

اس کے بعد پھر جب ڈگری مکمل ہو جائے تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ اچھی نوکری کے لیے ہارڈ سکلز سے زیادہ سافٹ سکلز چاہیے تھے۔ پڑھائی کی وجہ سے ایکسٹرا کریکیولر ایکٹیویٹیز کو گناہ سمجھنے والے جو بچے ساری زندگی اپنی خواہشات کو مار کو نان سوشل ہو کر اپنے بستر کو کتابوں سے بدل کر 4 یا 3.9 جی پی اے لے بھی آتے ہیں وہ پھر ساری زندگی “اچھی نوکری” کو خوار ہو رہے ہوتے۔ تب کہیں جا کر سمجھ میں آتا ہے کہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھائی کی وجہ سے جتنے بھی کپس اور ٹرافیز لی تھیں وہ تو گئیں ساری تیل لینے اب نئے سرے سے نئی چیز پر محنت کرنی پڑے گی اور نئے کنیکشنز بنانے ہونگے۔ اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے ڈاکٹرز، انجنئیرز، فارماسسٹ، ڈی پی ٹیز اور کیمسٹ اپنی زندگی کے اٹھارہ سال پڑھائی کو دینے کے بعد مناسب تنخواہ والی نوکری کے لیے ایم بی اے (MBA) کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  یہ پانچ باتیں 35 سال کی عمر سے پہلے جاننا ضروری ہیں

ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں چیزوں میں فرق کو سمجھا جائے۔ پیسہ کمانا ایک مکمل طور پر الگ ایشو ہے۔ اسے الگ طرح سے ایڈریس کرنا ضروری ہے۔ تعلیم ایک الگ معاملہ ہے، اس کے الگ مقاصد ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ ہونا اگر اس بات کی علامت ہوتی کہ تعلیم سے پیسہ آئے گا تو یقین کیجیے دنیا کے بڑے بڑے پروفیسرز پیسے کی مشین ہوتے۔ لیکن امیر لوگوں میں پروفیسرز اور ان سے متعلقہ افراد کا کہیں ذکر نہیں آتا۔ ملازمت پیشہ لوگوں کا بھی کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔ کم از کم ان کا تو بالکل نہیں جو نوکری کرنے کے لیے پڑھائی کرتے ہیں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  میں نے نوکری کا خیال دل سے کیوں نکالا – چار اہم وجوہات

مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ کچھ عرصہ انسان کو تجربہ کار لوگوں کی سپر وژن میں رہ کر کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بہت فوائد ہیں۔ ذہنی بھی تجرباتی بھی۔ سیکھنے کی نیت سے نوکری کرنا ضروری ہے۔ لیکن اپنی زندگی کو نوکری اور پروموشنز کے لیے وقف کردینا دنیا کی بڑی زیادتیوں میں سے ایک ہے جو آپ کر سکتے ہیں۔

اور تلخ ترین بات یہ ہے کہ جس معاشرے میں اچھی نوکری کے لیے تمام محنتیں اور مشقتیں جھیلی جاتی ہوں وہاں تخلیقی اور زرخیز ذہن نہیں پیدا ہوتے۔ نوکر ہی پیدا ہوتے ہیں۔

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

2 تبصرے

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: