بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

خود کو بدلیں

انجینئرنگ اور میڈیکل ہی آخری آپشن نہیں ہے

مالکوم فوربز (Malcolm Forbes) کہتا ہے کہ تعلیم کا ایک ہی مقصد ہے۔ یہ ایک خالی دماغ کو ایک کشادہ اور آزاد دماغ میں تبدیل کردیتی ہے۔ یہ بات شاید میں آج سے چھ یا سات سال پہلے نہیں سمجھ پاتا۔ کیونکہ اس وقت تک میں اپنی ضرورت کی بنیادی تعلیم سے بھی دور تھا۔ کاروباری خاندانوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ تعلیم ایک واجبی سی چیز ہوتی ہے جو عام کاروباری طبقے اور خاندانوں میں غیر اہم سمجھی جاتی ہے۔ میں بھی اسی طبقے کا فرد ہوں اور مجھے علم ہے کہ ہمارے اس طبقے میں کتنے لوگ اپنے بچوں کو ذمہ داری سے تعلیم دلوانے پر آمادہ ہوتے ہیں۔

اپنی عمر کے اٹھارہ سال عصری علوم سے دور رہنے کے بعد جب میں نے باقاعدہ سکول میں داخلہ لیا تو میرے سامنے صرف ایک ہی راہ اور ایک ہی مقصد تھا کہ مجھے میڈیکل فیلڈ میں جانا ہے۔ سکول میں داخلہ لیا تو اس وقت مجھے صرف پڑھنا آتا تھا۔ لکھنا نہیں آتا تھا۔ میری لکھائی کسی پہلی کلاس کے بچے کی طرح تھی جو پورے سال لکھ لکھ کر تھوڑی بہت بہتر کرکے نوی جماعت کا امتحان دیا۔ پھر دسویں، گیارھویں اور بارھویں بھی اسی طرح اللہ اللہ کرتے نکل گئیں۔ پھر میڈیکل کی فیلڈ میں معرکہ آرائی اور جنگ و جدل کا ماحول جہاں ایک ایک سیٹ کے پیچھے پانچ پانچ سو اور ایک ایک ہزار طلبا کھڑے ہوتے ہیں، رشوتوں اور سفارشوں کا بازار گرم ہوتا ہے، اس سب سے بھی گزرا اور آخر کار میری زندگی کے کچھ اوراق مزید بھر گئے۔

اس دوران مجھے کئی تجربات کا سامنا رہا۔ گیارھویں اور بارھویں جماعتوں میں جو کامپٹیشن ہوتا ہے، جہاں آپ کو نمبرات آپ کے رٹّے کے ملتے ہیں وہاں ایسے ایسے طلبا کو بھی برباد ہوتے دیکھا جو اپنے علم میں اپنی مثال آپ تھے۔ میتھامیٹکس اور فزکس کے پرچوں میں فیل ہوجانا، سپلیمینٹری امتحانات اور امپروومنٹ کے پیپرز دینا طلبا اور والدین کے لیے  ایک بہت عام سی بات ہے۔ یہاں صرف وہی کامیاب ہوتا ہے جو پوری کتاب کو اچھی طرح نہ صرف رٹ لے، بلکہ اس تیزی سے لکھ بھی سکے کہ ڈھائی گھنٹوں میں سوال کو سمجھنا، لکھنا، کیلکیولیشن، سولیوشن،  ڈایاگرام بنانا وغیرہ سمیت سارے کام مکمل ہوجائیں۔ جہاں آپ ایک منٹ بھی کچھ سوچنے کے لیے ٹھہرے وہاں آپ کی الٹی گنتی شروع۔  آپ کا پیپر ادھورا رہ جائے گا۔ نمبرات کم آئیں گے۔

یہاں پرسنٹیج منہ مانگے داموں بِکتی ہے، خریدی جاتی ہے۔ بیوپار ہوتا ہے۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں طلبا ایک فیصد پر ایک نہیں بلکہ فی صد پر لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ پینسٹھ فی صد والے دس دس پندرہ پندرہ طلبا، اسی طرح ستر فی صد، اسی اور پچیاسی فی صد والوں میں ہر ہر عدد پر دسیوں نہیں بیسیوں بچے ہوتے ہیں۔ ساٹھ اور پچپن فی صد انٹر کے نمبرات میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز کا پیمانہ ہے۔ اس سے کم پر آپ کبھی انٹری ٹیسٹ میں نہیں بیٹھ سکتے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پچپن اور ساٹھ تو کیا، پینسٹھ اور ستر نمبرات لانے والوں کو بھی کبھی داخلہ نہیں ملتا۔ میرٹ لسٹ میں اٹھانوے فیصد انہی لوگوں کے نام ہوتے ہیں جو پچیاسی فی صد نمبرات سے اوپر لائے ہوتے ہیں۔ چوراسی اعشاریہ نو  (84.9) والا نااہل قرار دیا جاتا ہے۔  اس لیے نہیں کہ وہ اہلیت نہیں رکھتا۔ بلکہ اس لیے کہ  کالج میں کُرسیاں کم تھیں۔ یا پھر نصاب کا پیٹرن اس لائق ہی نہیں تھا کہ انسان محض اسے اپنے علم اور ذہانت کی بنیاد پر کامیاب ہوسکے۔ یہ کالج کی نااہلی طالب علم کی نااہلی پر منتج ہوتی ہے۔اور یہ سلسلہ کئی سالوں سے اسی طرح جاری ہے۔ والدین اپنی بچیوں کو میڈیکل فیلڈ میں داخلہ دلواتے ہیں، اور اس کے  لیے  جہیز کی اکھٹی کردہ  ساری رقم  ڈگری لینے پر لگاتے ہیں، پھر کسی ایسے گھرانے میں بچی کی شادی کرتے ہیں جہاں اسے میڈیکل پریکٹس کی اجازت نہیں ملتی۔ نتیجتاً یا تو وہ اپنی باقی کی زندگی پیزا ہٹ اور برگر لیب کے کھانے کھا کر گزارتی ہے، یا پھر گول روٹیاں بناتے ہوئے۔ ایک ایک کُرسی ایک ایک خاندان کا مقدر طے کر رہی ہوتی ہے۔ یہاں ذہانت  (Intelligence) کی بجائے حافظے  (memory) کو پروموٹ کیا جاتا ہے۔ انسانوں کی بجائے روبوٹس کی پرستش ہوتی ہے۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو کالج کی اُس کُرسی کا حقیقی حقدار ہو وہ بیٹھا کہیں بی بی اے، بی کام اور کہیں بی اے کر رہا ہوتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  میں مطالعہ کیسے کرتا ہوں

سوال یہ ہے کہ  کیا  میڈیکل یا انجینئرنگ آخری آپشن ہے ؟

فیلڈ کے لوگوں سے پوچھ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ سٹرگل کا ایک لمبا روٹ ہے۔ محنت  اور مشقت انتہائی درجے کی اور اس کے بعد آؤٹ کم کوئی اتنا بھی ریوارڈنگ نہیں ہوتا جتنا کہ عموماً سمجھا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے پر تو پڑھائی اپنے آپ میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ دن رات ایک کرکے، کئی کئی دن سکون کی نیندیں قربان کرکے،  بیسیوں رشتہ داروں کی شادیاں اور دعوتیں   چھوڑ دینے، کھانے پینے اور منہ دھونے تک کی فکر سے بے نیاز ہوکر اسائنمنٹس اور پراجیکٹ کمپلیٹ کرنے والا یہ سٹوڈنٹ جب پڑھائی کے چار یا پانچ سال مکمل کر بھی لے تو معلوم ہوتا ہے کہ اب انٹرنشپ یا ہاؤس جاب ضروری ہے۔ اس کے بغیر پاکستان میں آپ آفیشلی اپنے شعبے میں پریکٹس نہیں کر سکتے۔انٹرنشپ کے بعد جاب ملتی ہے تو تنخواہ اتنی کم ہوتی ہے کہ اکثر انجینئرز تو ڈھنگ کی نوکری ڈھونڈتے ڈھونڈتے کئی سال برباد کردیتے ہیں۔ اور جب عقل ٹھکانے آتی ہے تو اسی تنخواہ سے شروع کرنا پڑتا ہے جو فریش گریجویٹ کو ملنی ہوتی ہے۔ بیس ہزار تنخواہ پر کام کے لیے لگنے والا یہ انجینئر اپنی سیلف سٹیم اور اپنی ڈگری کے غرور کو اپنی جیب میں رکھ کر نوکری شروع کرتا ہے تو ٹھیک وہی مراحل سامنے آتے ہیں جو ایک غیر انجینئر کے لیے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹری میں بھی جب تک نوکری ہے تب تک یہی چل رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ آپ اپنا کاروبار، اپنا کلینک شروع کرکے گاہکوں کو چُونا لگانا شروع کریں اور مریضوں کو ذبح کریں۔ جو ڈاکٹر چُونا لگانے میں ماہر نہ ہوں ان کا  ڈاکٹری کرنے کے بعد سب سے بڑا خواب یہی ہوتا ہے کہ امریکہ یا آسٹریلیا میں میڈیکل لائسنسنگ کا امتحان دے کر وہاں نوکری کریں گے اور آٹھ دس ہزار ڈالر ماہوار کمائیں گے۔ یہ معمولی تنخواہ پاکستانی روپے میں کنورٹ کرلیں تو کوئی آٹھ سے دس لاکھ روپے ماہانہ بنتی ہے۔ اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو پھر احتجاج کرتے  ہوئے سڑکوں پر نکل کر ایمرجنسی  وارڈز کی تعطیلات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہاں پاکستان میں رہتے ہوئے ملک کی خدمت کا جذبہ اس مرحلے پر ساتھ نہیں دیتا۔ کیونکہ پیٹ پالنا بہت بڑا غم ہے۔ اور ایمانداری سے پیٹ پالنا اس سے بھی زیادہ بڑا غم ہے۔ ایسے میں سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہوتے ہیں۔ انجینئرز، ڈاکٹرز، کامرس، اور بزنس اڈمنسٹریشن وغیرہ۔ ان سب ڈگریوں میں نام کے رعب کے سوا کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ وہ جو آپ سنتے رہے ہیں کہ ایم بی والے سب سے زیادہ فارغ ہوتے ہیں، وہی بات یہاں بھی اپلائی ہوتی ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ انجینئرنگ کرکے بھی  لڑکے اتنے ہی فارغ ہوتے ہیں جتنے ایم بی اے کرکے۔ اچھی نوکری دونوں کی لگ سکتی ہے۔ اور جب لگتی ہے تو لاکھوں روپے ماہانہ کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ بات مہارت، ہمت   اور صبر کی ہوتی ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  یہ پانچ باتیں 35 سال کی عمر سے پہلے جاننا ضروری ہیں

تو آپ کونسے شعبے کا انتخاب کریں گے؟

آپ کس شعبے کا انتخاب کرتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ریاضی سے انٹر کرنے کے بعد انجینئرنگ اور حیاتیات سے انٹر کے بعد ڈاکٹری کرنا کوئی حتمی اور آخری آپشن نہیں ہے۔ بے شمار ایسے شعبے ہیں جنہیں انٹر کے بعد اختیار کیا جاسکتا ہے۔  چند بڑے شعبوں کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

لڑکوں کے لیے

اگر آپ ایسی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں جس میں آپ کو پڑھائی کا خرچ اٹھانے میں مشکل درپیش ہوسکتی ہے تو بہتر یہ ہے کہ ڈاکٹری کا انتخاب نہ کریں۔ خصوصاً اس وقت جب آپ کو پبلک سیکٹر کالج میں داخلہ ملنے میں دشواری ہو۔  دوسری بات یہ بھی ہے کہ ڈاکٹری بہت زیادہ وقت مانگتی ہے۔ آپ اگر فوری طور پر اپنے گھر کو سپورٹ کرنا چاہتے ہوں تو ڈاکٹری آپ کے لیے اچھی فیلڈ اس لیے بھی نہیں ہے کہ آپ ڈاکٹری کی پڑھائی کے ساتھ کسی اور کام کو جاری نہیں رکھ سکتے۔ اور پڑھائی سے لے کر ہاؤس جاب کا عرصہ اتنا طویل ہے کہ مناسب نوکری حاصل کرنے تک آپ کو ایم بی بی ایس کے پانچ سال کے بعد بھی قریب تین یا چار سال درکار ہونگے۔ یعنی انٹر کے بعد ڈاکٹری کا انتخاب کرنے کی صورت میں  پیسے کمانے میں آٹھ یا نو سال لگ جانا معمولی سی بات ہے۔ اور اس کے بعد بھی سپیشلائزیشن کے بغیر ترقی کا کوئی خاص امکان نہیں ہے۔ اس لیے ڈاکٹری صرف اس صورت میں مناسب چوائس ہوسکتی ہے جب آپ کو اتنے لمبے عرصے تک گھر والوں کی جانب سے کفالت اور سپورٹ کی امید ہو۔

انجینئرنگ کے شعبے پر کسی حد تک وہی بات اپلائی کی جاسکتی ہے جو میڈیکل کے حوالے سے اوپر لکھی ہے۔ سوائے اس کے کہ اس میں ڈگری اور دیگر پڑھائی کا دورانیہ ڈاکٹری سے کافی کم ہے۔ چار سال کا پروگرام اور اس کے بعد انٹرنشپ کے بعد نوکری کا آغاز ہونے تک قریب  چھ سال کا عرصہ لگ جانا عام بات ہے۔ اور اس شعبے میں بھی پڑھائی کے دوران آپ کوئی دوسرا کام با آسانی نہیں کر سکتے۔ گویا پڑھائی کے ساتھ فیملی کو سپورٹ کرنا انجینئرنگ میں بھی بہت مشکل کام ہے۔

اسی طرح فارم ڈی، ڈی پی ٹی، بی ڈی ایس، اور نرسنگ کی پڑھائی بھی بہت زیادہ وقت مانگتی ہے۔ آپ ان شعبوں میں پڑھائی کے ساتھ کوئی پارٹ ٹائم کام نہیں کر سکتے۔

جو شعبے لڑکوں کے لیے بہتر  ہیں، جن میں  ٹائم مینیج کرکے  پارٹ ٹائم نوکری اور پڑھائی کو ساتھ لے کر چلا جاسکتا ہے ان میں درج ذیل شعبے شامل ہیں:

  • بی بی اے
  • بی ایس (entrepreneurship) – یہ کورس آئی بی اے اور سی بی ایم جیسی یونیورسٹیز کروارہی ہیں، اور بہت فائدہ مند ڈگری ہے۔
  • بی ایس لیڈرشپ یا سوشل انٹریپرینورشپ – یہ بھی خاص ڈگری ہے جدید مارکیٹنگ اور اڈمنسٹریشن کی فیلڈ میں اور ترقی کے بہت امکانات ہیں ۔
  • بی ایس کامرس
  • بی کام
  • بی اے اکانومکس
  • بی ایس اکانومکس
  • ایل ایل بی – وکیل بننا ہے تو فن دکھانا ہوگا۔ ترقی کے کافی چانسز ہیں۔
  • بی ایس کمپیوٹر سائنس
  • بی ایس سافٹویر انجینئرنگ
  • بی ایس فنانس یا سٹیٹسٹکس (BS Statistics)
  • بی ایس ماس کام
  • بی ایس مائکروبائیولوجی
  • بی ایس کیمسٹری
  • بی ایس بائیوکیمسٹری
  • بی ایس بائیوٹیکنالوجی
  • بی ایس فزکس یا الیکٹرانکس

لڑکیوں کے لیے

لڑکیوں میں عموماً بہت جلدی سیٹل ہونے کا رجحان نہیں پایا جاتا۔ اس لیے وہ میڈیکل فیلڈز میں با آسانی اپنا ٹائم دے سکتی ہیں۔ تاہم ایسی لڑکیاں جو سیٹل ہو کر اپنا کرئیر جلد ہی بنانا چاہتی ہوں ان کے لیے بھی اوپر ذکر کردہ تمام شعبے اپلائی ہوتے ہیں۔ کچھ مزید شعبوں کو دیکھ لیجیے:

  • بیچلرز اور ماسٹرز آف ایجوکیشن
  • بی ایس سائکولوجی
  • وژویل سٹڈیز  (Visual Studies) – یہ فیلڈ بھی بہت امکانات رکھتی ہے۔ اس میں گرافک  ڈیزائننگ اور فائن آرٹس سے لے کر بہت سے مختلف ذیلی شعبے ہیں۔ محنت اس میں بھی درکار ہے، تاہم آپ پارٹ ٹائم ٹیوشن یا  کوچنگ سینٹر میں پڑھانے کا کام کرسکتے ہیں۔
  • بی ایس صحافت (Journalism)
  • بی ایس نیوٹریشن
  • فوڈ سائنسز
یہ تحریر بھی پڑھیں:  اچھی نوکری اور تعلیم کا مقصد

واضح رہے کہ ان تمام شعبوں کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ سکوپ کے حساب سے بہتر اور امکانات سے بھر پور ہیں۔ باقی میڈیسنز، فارمیسی، فزیوتھیراپی، ڈینٹل سرجری، اور انجینئرنگ کے جملہ شعبے بھی اپنی جگہ موجود ہیں لیکن وہ بہرحال بہت زیادہ محنت اور وقت کے طلبگار ہوتے ہیں۔

دھیان رکھیں!

سب سے ضروری بات یہ ہے کہ جو بھی شعبہ آپ منتخب کریں اس کے بارے میں جاننے والے لوگوں سے مشورہ کریں۔ گوگل پر اس شعبے کے حوالے سے جتنا ہو سکتا ہےسرچ کریں۔ امکانات کا جائزہ لیں۔ یہ دیکھیے کہ کام کی نوعیت کیا ہوگی۔ مثلاً اگر آپ کیمیکل انجینئرنگ کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ کے ذہن میں یہ بات ہونی چاہیے کہ آپ کی جاب حقیقتاً کوئی وائٹ کالر جاب نہیں ہوگی۔ آپ کو انڈسٹری میں پانچ پانچ ہزار درجہ حرارت والی بھٹّی کے نزدیک بھی کام مل سکتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جو بھی کریں، اس سے پہلے اس شعبے اور شعبے کے ذیلی مندرجات کے بارے میں یقین کرلیں کہ یہ آپ کے مطلب کا شعبہ ہے۔

سیٹل ہونے کے لیے جو ٹائم مارجن درکار ہے اس بارے میں بھی تحقیق کریں کہ کونسے شعبے میں کتنا عرصہ آپ کو کرئیر بنانے میں لگ سکتا ہے۔

یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ جو شعبہ آپ نے منتخب کیا ہے اس میں صرف نوکری ہی ممکن ہے یا آپ اپنا کاروبار بھی شروع کرسکتے ہیں؟

یہ بات بھی مد نظر ہو کہ جس فیلڈ میں آپ جانا چاہ رہے ہیں اس کی ڈیمانڈ آپ کے ملک میں ہے یا آپ کو پریکٹیس کے لیے باہر جانا ہوگا؟ اگر ملک میں ڈمانڈ ہے تو ضرور اس فیلڈ میں جائیں ورنہ سوچ لیجیے کہیں آپ کا یہ وقت برباد نہ ہو۔

آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ جو بھی کریں، پورے دل سے کریں۔ سائڈ انکم کا پلان بھی ساتھ لے کر چلیں لیکن ایسا نہ ہو کہ کسی چھوٹی اور وقتی تنخواہ والے کام کے لیے آپ مستقبل کو داؤ پر لگادیں۔ اس کے لیے بہتر یہ ہوتا ہے کہ نوکری کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جو آپ کے شعبے سے متعلقہ ہو اور آپ کو نوکری کے لیے اپنی پڑھائی سے ہٹ کر بہت زیادہ محنت نہ کرنا پڑے۔ مثلاً اگر آپ مائکرو بائیولوجی کا شعبہ اختیار کرتے ہیں تو آپ کی پارٹ ٹائم جاب کسی لیبارٹری میں اسسٹنٹ یا ہیلپر یا انٹرنی کے طور پر  ہونی چاہیے۔ اگر میتھامیٹکس لیتے ہیں تو آپ ٹیوشنز پر فوکس کریں۔ کمپیوٹر سائنس یا سافٹوئیر انجینئرنگ شعبہ ہے تو فری لانس کام پر توجہ دیں۔ماس کام یا اڈمنسٹریشن آپ کا شعبہ ہے تو بلاگ شروع کریں۔ لیکن کچھ نہ کچھ ضرور  کریں۔ کیونکہ میرے نزدیک  خالی بیٹھنے اور جگت بازی  سے بڑا جُرم اور  کوئی نہیں۔

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

3 تبصرے

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: