بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

میرا عزم و مقصد

یوں تو انٹرنیٹ پر اردو کی سیکڑوں ویب سائٹس اور شاید ہزاروں بلاگ موجود ہیں۔ لیکن قاری کے ساتھ ایک مسلسل رشتہ قائم کرنے والے، ایک مکمل آڈینس کو جنریٹ کرنے والے بلاگ اردو زبان میں کم ہی پائے جاتے ہیں۔ اس کی چند وجوہات ہیں جنہیں شاید اس طرح ترتیب دیا جاسکتا ہے:

1۔بلاگ کے پیچھے کسی باقاعدہ مقصد  کی غیر موجودگی۔

2۔  بلاگ کا غیر مستقل ہونا اور مہینے میں ایک آدھ تحریر کا آنا۔

3۔ بلاگ کا  موضوع سے آزاد ہونا۔

4۔ ریڈرشپ کا نہ ہونا۔

5۔ قاری کو بلاگ کی تحریر میں اپنے ساتھ انگیج نہ کر پانا۔

وجوہات اور بھی ہونگی لیکن فوری اور اہم ترین وجوہات یہی ہیں۔ تاہم میرا بلاگ الحمد اللہ اس حوالے سے ایک الگ مقام اور ایک الگ وژن پر کھڑا ہوا ہے۔ اور تحریروں میں قاری کو انگیج کرنا، انہیں بتانا کہ یہ تحریر صرف انہی کے لیے لکھی گئی ہے، اس بات کا اثر اس قدر گہرا ہے  کہ بلاگ کے پہلے چار دنوں میں ہی سبسکرپشن کی تعداد “ایک سو”  کا ہندسہ عبور کر نکلی ہے۔

خیر یہ تو تھی کچھ Statistics کی بات۔ اب یہ سنیے کہ یہ بلاگ آخر کیوں بنایا گیا ہے؟

کسی نے کہا پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ پیسے سے خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ پیسہ غم کو مٹا نہیں سکتا۔ پیسہ یہ نہیں کر سکتا۔ پیسہ وہ نہیں کر سکتا۔ پیسہ ہاتھ کا میل ہے۔ اور میل کو صاف کر دینا چاہیے۔

سننے والا مجھ جیسا تھا۔ اطمینان سے سننے کے بعد کہنے لگا “سر آپ اپنی اگلے مہینے کی تنخواہ مجھے بھجوا دیجیے گا۔ آپ کو نہیں تو مجھے ہی خوشی حاصل ہو جائے گی۔”

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں آنے کے بعد انسان کے جسم کے لیے جس طرح کھانا ضروری ہے، اسی طرح زندگی میں پیسہ ضروری ہے۔ اس کی اہمیت سے انکار کرنے والا نہ دنیا کی اکنومکل سائنس سے واقفیت رکھتا ہے، نہ ضروریات زندگی کا درست ادراک کر سکتا ہے۔

پاورٹی لائن سے نیچے رہنے والے  ملک میں ہماری قوم کی اکثریت ایسے توہمات کو سننے اور انہیں قبول کرنے کی اتنی عادی ہے کہ کوئی بھی اسے بے وقوف بنا سکتا ہے۔ کبھی سیاست دان کے روپ میں، کبھی استاد کے روپ میں، کبھی ڈاکٹر کے روپ میں، کبھی انجنئیر اور کبھی مولوی صاحب کے روپ میں۔

اس مقام سے ذرا اوپر اٹھ کر دیکھیے۔ ویسٹ تو خیر بہت دور ہے، عرب اور گلف اور آس پاس کے ترقی یافتہ ممالک میں دیکھیں تو ان کی سوشیو سائکولوجیکل بنیادیں بہت مضبوط نظر آتی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ پیسے کو “بُری چیز” سمجھ کر اپنی سو کالڈ “Dignity” کا ایشو نہیں بناتے۔ وہاں پر کسی ریسرچ سائنٹسٹ کو ملنے والا وظیفہ اس کے لیے کوئی طعنہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کی محنت کا معاوضہ ہوتا ہے۔

لیکن ہم معصوم لوگ ہیں۔ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ پیسہ بری چیز ہے۔ اور نتیجے میں ایک restrictive psychology پیدا ہوتی ہے جو معاشرے میں سوشل سٹریس کو مزید بڑھا کر ہمیں دنیا سے کئی صدیاں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔

لیکن یہ ساری باتیں میں کیوں کر رہا ہوں؟

اکونومکل کامپٹیشن کی دنیا میں افراتفری کا وہ عالم ہے اگر آپ پیسے کی اہمیت کو اپنی نو عمری یا زیادہ سے زیادہ جوانی  تک کے دور میں  نہیں سمجھ لیتے تو آگے سروائول کے لیے صرف معذوری اور احتیاج  ہی رہ جاتی ہے۔ باقی رزق کا وعدہ تو اللہ نے کیا ہی ہے۔ لیکن یہ رزق کس طرح حاصل ہوگا۔۔۔؟ یہ آپ کے اوپر منحصر ہے۔

میں اکثر ایک بات کہا کرتا ہوں کہ سفید پوشی ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا غم ہے۔ اور یہ غم وہی جانتا ہے جو صحیح معنوں میں معاشی پریشانیوں کا شکار ہو کر بھی معاشرے میں اپنی سفید چادر،  اپنی خود داری  اور اپنی عزت کے بوجھ کو ناتواں کندھوں پر اٹھایا ہوا ابھی تک سر اٹھا کر جی  رہا ہے۔ یہ   باتیں معاشرے میں میرے ، آپ کے اور ہر اس شخص  کے متعلق ہیں جو اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ یہ ہر روز جیا جانے والا سچ ہے جسے چار و ناچار ہر ایک کو قبول کرنا ہی پڑے گا۔ اس زمانے میں ان باتوں کو صرف دو ہی لوگ نظر انداز کرسکتے ہیں۔ ایک تو  وہ جس کے پاس بے تحاشہ دولت ہو اور پیسے کا وفور ہو۔ یا پھر وہ عملی یا نفسیاتی طور پر اپنی گھریلو زندگی میں معاشی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو۔ تیسرا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو اسے نظر انداز کر سکے۔

یہ بلاگ  معاشرے کے اسی سفید پوش طبقے کے  ناگفتنی  معاشی مسائل کے حوالے سے بنایا گیا ہے۔ اور اس کا محرک وہ احساس اور وہ تجربہ ہے جس سے میں بذاتِ خود گزر کر آیا ہوں۔ آپ میں سے اکثر حضرات کو شاید اس بات کا علم نہ ہو۔ لیکن کاروبار میں جب کسی کی بنی بنائی بگڑتی ہے تو صرف ایک شخص کو اس کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ پورے خاندان یہاں تک کہ آنے والی نسل تک  پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ اور میں نے لوگوں کی بنتی کو بگڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ مجھے اس بات کا علم اور مشاہدہ ہے کہ  ہمارے یہاں جس طبقے کو کاروباری کہا جاتا ہے اس میں اکثریت حادثاتی کاروباریوں کی ہے۔

لیکن  کامپٹیشن کے اس دور میں جب ملک کے اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ اپنے مستقبل کو رو رہے ہیں، جمے جمائے کاروبار جو ایک پلک  میں ہوا ہوچکے ہیں، بڑے بڑے  نو دولتیے گدھ  جو ہوا کے جھونکوں کی طرح  تجارتی منڈی کو ایک لقمے میں ہڑپ کرکے معاشی بحران کا سبب  بن رہے ہیں ان کے سامنے یہ حادثاتی کاروباری لوگ جو معاشرے کے  مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ہیں یہ کس طرح سروائو کرسکیں گے؟ نتیجتاً متوسط طبقہ غربت کی دلدل کے قریب جاتا جارہا ہے۔  میرے نزدیک  اس طبقے سمیت معاشرے کے ہر اس شخص کو تربیت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نیا دور جس تیزی آرہا ہے، اسی تیزی سے اپنے ذہنوں کو وسیع تر کرنا اس وقت کا سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے اس بات کی کہ نئی مارکیٹنگ کی سائنس کو سمجھا جائے۔ یہ سمجھا جائے کہ کس طرح کامپٹیشن کے اس دور میں بقا کی کی جنگ لڑی جاسکے گی۔

میں اپنے تئیں اس دیے  کو اس بلاگ کی صورت میں جلا چکا ہوں۔ تاکہ جو کچھ میں نے سیکھا ہے، یا سیکھ رہا ہوں اسے آپ کے ساتھ شئیر کروں۔ امید ہے کہ میری آواز وہاں تک پہنچے گی جہاں تک میرے گمان میں ہے۔

6 تبصرے

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: