بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مارکیٹنگ گائیڈ

قوتِ اظہار اور مارکیٹنگ (تعارف)

کچھ جیزیں ایسی ہیں جنہیں بول کر، کہہ کر اور بتا کر نہیں سمجھایا جاسکتا۔ عملی نمونہ سب سے بڑی حکمتِ عملی ہے جو کسی بھی کام کی ترغیب دینے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ میں اسی لیے خود کو مثال کے طور پر سب سے پہلے آگے رکھتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ سب سے پُر اثر طریقہ ہے۔ یعنی اگر ایک شخص آپ کو اگر کسی چیز کی ترغیب دے رہا ہے تو اپنی بتائی گئی بات کا اثر پیدا کرنے کے لیے اس سے بہتر اور کیا طریقہ ہوگا کہ وہ کام خود ہی کرکے دکھا دیا جائے؟ چنانچہ جب مجھ سے کوئی پوچھتا ہے کہ انٹرنیٹ پر کامیابی کے لیے سب سے ضروری چیز کیا ہے؟

میرا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ: ”قوتِ اظہار“۔ اور مجھے یہ بتانے کی بھی اب شاید ضرورت نہیں کہ قوتِ اظہار کی دولت سے آپ کیا کیا کر سکتے ہیں۔ خود کو ایکسپریس کرنے کی صلاحیت وہ صلاحیت ہے جو آپ کو زندگی میں کسی بھی موقعے پر تنہا اور بے سہارا نہیں چھوڑے گی۔ خوش قسمتی یہ ہے کہ میری آڈینس میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مناسب قوتِ اظہار رکھتے ہیں۔ خود کو ایکسپریس کرنا جانتے ہیں۔ بولنا جانتے ہیں، لکھنا جانتے ہیں۔

یہ تقریباً وہ ساری خصوصیات ہیں جو ایک آن لائن بزنس یا آن لائن ریوینیو جنریشن پلان میں سب سے بنیادی اور ضروری ہوتی ہیں۔ دنیا میں انہی صلاحیتوں کے سہارے سے خود پبلیسائز کیا جاتا ہے، بیچا جاتا ہے۔ لوگ آپ کی پراڈکٹ کو بعد میں دیکھتے ہیں، پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ آپ اسے بیچنے کی صلاحیت کتنی رکھتے ہیں۔ اظہار کی قوت، ایکسپریسنگ کوالٹی، پریزینٹیشن اور پراڈکٹ کی نمائندگی۔ یہ وہ ریسیپی یا وہ لوازمات ہیں جس سے ایک کامیاب کمپنی کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کے بعد کی ساری چیزیں ثانوی ہوتی ہیں۔

ایک شرارے اور غرارے کی دوکان پر موجود ادھیڑ سے لے کر بڑی عمروں تک کے سیلز مین سے لے کر بس میں چڑھ کر منجن اور مسواک بیچنے والے تک روز ہمارے یہاں یہی کام ہوتا ہے۔ سانڈے اور سانپ کا تیل بیچنے والا وہ شخص جو آپ کی تندرستی کی علامتوں کو اس ہولناک طریقے سے بتاتا ہے کہ  سننے والا ہر شخص خود کو بیمار سمجھنے اور محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ ہے قوتِ اظہار۔ یہ ہے ”کانٹینٹ“ جو دنیا میں سب سے زیادہ خریدا جاتا ہے اور سب سے زیادہ بیچا جاتا ہے۔ پراڈکٹ سے پہلے بھی، پراڈکٹ کے ساتھ اور پراڈکٹ کے بعد بھی دنیا میں سب سے زیادہ اسی کو بیچا جاتا ہے۔ اور اسی کو کانٹینٹ مارکیٹنگ (Content Marketing) بھی کہا جاتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  پاکستان میں آن لائن کاروبار کے امکانات

خیر شرارے اور غرارے اور حکیمی نسخوں کی بات سے اب تھوڑا اوپر آتے ہیں۔ اگر میں غلط نہیں ہوں تو کانٹینٹ مارکیٹنگ دنیا میں بُدھا، گوتم، ارسطو، مارکس و لینن، ہٹلر اور بل گیٹس سے زیادہ اڈمائر کی جانے والی یا اثر رکھنے والی چیز ہے۔ دنیا میں اس وقت مارکیٹنگ کے لیے اوسطاً ساٹھ فیصد توانائی کانٹینٹ بلڈنگ پر صرف کی جاتی ہے۔ اس میں وڈیوز، آڈیوز، پوڈ کاسٹ، مضامین، رسائل و جرائد کی تحریریں، ناولز، فلمز اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ تحریر کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے کہ اس کی پہنچ اور دسترس بہت زیادہ ہوتی ہے۔ آگے آنے والے مضامین میں رفتہ رفتہ یہ باتیں بھی آئیں گی کہ کس طرح ناولز اور فلمز مارکیٹنگ میں کردار ادا کرتی ہیں اور کیسے دنیا کے بڑے بڑے بزنس ہولڈرز پوری پوری قوموں کی تقدیریں اور لوگوں کی سوچ کے زاویے طے کرتے ہیں۔

کانٹینٹ مارکیٹنگ کا آپ کو کیا بنیادی فائدہ ہے؟

بنیادی اور سب سے ناگزیر فائدہ تو یہی ہے کہ یہ آپ کے کاروبار کی قسمت طے کرتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے کہ اگر آپ لوگوں کو یہ بات بتانے میں کامیاب ہو جائیں کہ جو پراڈکٹ آپ بیچتے ہیں، یا جو خدمات اور سروسز آپ فراہم کرتے ہیں اس کی انہیں کیوں ضرورت ہے تو اس کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے؟ اگر آپ کسی پر اپنی سروسز اور اپنی پراڈکٹ کی اہمیت ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو کاروبار کی اس سے بڑی اور دیر پا حکمتِ عملی کوئی دوسری نہیں ہوسکتی۔

جدید مارکیٹنگ میں یہی وجہ ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ اہمیت کانٹینٹ مارکیٹنگ کو دی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ آپ کو کسٹمر کے ساتھ لانگ ٹرم رشتے سے نوازتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ کس طرح آپ بہتر رلیشنز قائم کریں گے۔ کس طرح ہر کسٹمر کو احساس دلائیں گے کہ وہ آپ کو انفرادی طور پر عزیز ہے۔ ہیلتھ کئیر سسٹم سے لے کر آئی ٹی اور کاسمیٹکس سے لے کر ٹیکنالوجی تک ہر جگہ آپ کو کانٹینٹ مارکیٹنگ کے نمونے مل جاتے ہیں۔ پاکستان میں گو ذرا کم ہیں کیونکہ ابھی پاکستان کی انڈسٹری مارکیٹنگ میں اتنی ترقی پر نہیں گئی، اور یہاں ابھی تک بے ایمانی اور بے مروتی کا بول بالا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  میں نے نوکری کا خیال دل سے کیوں نکالا – چار اہم وجوہات

اس کے باوجود نظر اٹھا کر دیکھیے تو آپ کو ہر موضوع پر تفصیلی مضامین انٹرنیٹ پر مفت میں مل جاتے ہیں۔ کیا لکھنے والوں کا دماغ خراب ہے کہ وہ مفت میں یہ سارا کانٹینٹ اس بڑی مقدار میں جنریٹ کیے جارہے ہیں؟ نہیں۔ ان کا دماغ خراب نہیں ہے۔ میں اپنی ایک پوسٹ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ کس طرح میں نے صرف ایک آرٹیکل لکھ کر ڈھائی لاکھ روپے کے پراجیکٹس حاصل کیے تھے۔ یہی کانٹینٹ مارکیٹنگ کا کمال ہے۔ آپ مارکیٹ میں ویلیو جنریٹ کیجیے، اعتبار بنائیے، اور اتھارٹی قائم کیجیے۔ پھر دیکھیے، لوگ آپ کے علاوہ کسی دوسری جانب رُخ کرنے کو تیار نہیں ہونگے۔ کیونکہ وہ آپ پر اعتماد کرچکے ہیں۔ وہ آپ کی اپنائیت کے آگے بے بس ہوچکے ہیں۔

کانٹینٹ مارکیٹنگ اور روایتی اشتہارات میں فرق

پاکستان میں عموماً یہ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی چھوٹی کمپنی یا ویب سائٹ شروع ہوتی ہے تو سب سے پہلے یہ لوگ اشتہارات پر اپنا بجٹ برباد کرنے کے لیے خود کو تیار کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اشتہار سب سے بہتر یا بہترین حکمتِ عملی ہے کسی بھی کمپنی کی کامیابی کے لیے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

  • جدید مارکیٹنگ میں یہ تصور کافی تبدیل ہوا ہے جس کی وجہ سے اشتہار اب اس درجے پر اہم نہیں سمجھا جاتا جس درجے پر کسی زمانے میں سمجھا جاتا تھا۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں:
  • روایتی اشتہار انتہا سے زیادہ مہنگا ہے۔ اخبار میں کاغذ کا ڈیڑھ انچ کا ٹکڑا بھی ہزاروں روپے کا پڑتا ہے جس کی کوئی اوقات نہیں ہوتی۔ پڑھنے والا شاذ ہی اس پر نظر ڈالتا ہے۔ اور اگر نظر ڈال بھی لے تو اس کا کوئی اثر نہیں لے پاتا۔ تھوڑا سا بڑا اشتہار لگائیں تو کہانی ہزاروں سے بھی آگے نکل جاتی ہے۔
  • اسی طرح ٹیلیویژن کا اشتہار چند سیکنڈ پر مبنی ہوتا ہے لیکن اس کی قیمت اخبار سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ دس سے پندرہ سیکنڈ کا اشتہار بھی لاکھوں روپے کا بجٹ یک مشت کھا جاتا ہے۔ اور کوئی بڑی اشتہاری کیمپین ہو تو کروڑوں روپے لگ جانا بھی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ یعنی معیانہ روی تو روایتی اشتہاروں کی پلاننگ میں ممکن ہی نہیں۔ ورنہ نتیجہ صفر آتا ہے۔
  • روایتی اشتہار نفسیاتی طور پر آڈینس کے لیے دقت کا سبب ہوتا ہے۔ جس کو آپ اشتہار دکھانا چاہتے ہیں سوچیے کہ جب وہ اشتہار دیکھنا ہی نہیں چاہتا تو اس پر اثر کیسے ہوگا؟ یہ آپ کے معمولات میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔ آپ کے ٹاک شو، ڈرامہ سیریل اور فلم کے درمیان میں آ کر آپ کو بے زار کردینے والے اشتہارات بھلا کسی یوزر کو کیوں تنگ نہ کرتے ہونگے؟ ایسے میں اس کا کنورژن ریٹ انتہائی نیچے چلا جاتا ہے۔ یعنی اشتہار دیکھنے والوں اور پراڈکٹ خریدنے والوں کی شرح نکالی جائے تو انتہائی کم ہوگی۔
  • روایتی اشتہار کا کوئی طے شدہ مخاطب نہیں ہوتا۔ اور یہی اس کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ یہ اشتہار اُن لوگوں کی اکثریت کو نظر آتا ہے جنہیں اپنی پوری زندگی میں آپ کے پراڈکٹ کی شاید کبھی ضرورت ہی نہ پڑے۔ یعنی روایتی اشتہار میں آپ کی ٹارگٹ آڈینس متعین ہی نہیں ہوتی۔

یہی وہ بنیادی خامیاں ہیں روایتی اشتہارات میں جن کی وجہ سے مارکیٹنگ کا نیا آرڈر ترتیب میں آتا ہے۔ یہاں آپ کا اشتہار آپ کا کانٹینٹ ہوتا ہے۔ اور یہ انتہائی فوکسڈ بھی ہوتا ہے اور بہت زیادہ سستا بھی۔ یہ صرف انہی کے لیے ہوگا جو آپ کے پراڈکٹ کے بارے میں بات کرتے ہیں، اسے خریدنے کا امکان رکھتے ہیں۔ نتیجتآً آپ کا کنورژن ریٹ بہت زیادہ، اثر پذیری بے حد اور لاگت بہت کم ہوجاتی ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  کیا آپ کا نیا کاروبار کامیاب ہوگا؟

آگے آنے والی تحریروں میں ان شاء اللہ اس پر مزید زاویوں سے نظر ڈالتے ہیں اور چند مثالوں کو بھی دیکھیں گے کہ کس طرح کانٹینٹ مارکیٹنگ کے بل پر لوگ ترقی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ بلاگ کو ای میل سے ضرور سبسکرائب کریں تاکہ کوئی تحریر رہ نہ جائے۔ مزید تفصیل سے سیکھنے اور سمجھنے کے لیے آپ میرے آن لائن کورس میں بھی داخلہ لے سکتے ہیں جو آٹھ ستمبر سے شروع ہوگا۔

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: