بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

خود کو بدلیں

یہ پانچ باتیں 35 سال کی عمر سے پہلے جاننا ضروری ہیں

میں کسی کی سوچ پر پابندی نہیں لگا سکتا۔ اس کا مجھے حق ہے نہ اختیار۔ لیکن اپنی راہ متعین کرنے میں کسی درجے آزاد ضرور ہوں اور اپنی سمجھ کے مطابق لوگوں کو درست بات کی تلقین اور ترغیب دینا ہر شخص کا حق ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ کی ترغیب اور تلقین کا کوئی اثر اور کوئی نمایاں نتیجہ آپ کے سامنے آئے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ اچھے نتیجے کو ہی معیار بنائیں۔ دنیا میں ہزاروں ایسے زکی  اور فہیم لوگ گزرے ہیں جن کے اقوال اور تعلیمات حکمت و دانائی کی باتوں سے بھری پڑی ہیں لیکن ان کی ترغیب کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ اس لیے مقبولیت کوئی واحد معیار نہیں ہے صحیح اور غلط کے فیصلے کا۔

خیر۔ دوست یاروں کی محفل میں جب بھی بیٹھک ہو تو ان کی ذہن سازی اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ جس چیز کا مجھے شعور ہے، مجھے علم ہے اس کی ترویج ضروری ہے۔ معاشرے اسی سے آگے بڑھتے ہیں۔ آگہی پھیلانا ہر عقلِ سلیم رکھنے والے شخص کی ذمہ داری ہے۔ دوسروں کی سُن کر سمجھنے کی کوشش کرنا اور اگر درست بات ہو تو قائل ہو جانا یا پھر انہیں قائل کرنے کی کوشش کرنا، یا پھر اختلاف پر اتفاق کرکے ہنسی خوشی محفل برخواست کردینا، یہ سارے معتدل اور سنجیدہ رویے ہیں جن سے معاشروں کی پرورش ہوتی ہے۔ ترقی ہوتی ہے۔ اسی ضمن میں آج کی جوان اور نوجوان پیڑی کے لیے چند مشاہدات، تجربات اور ان سے اخذ کردہ نتائج پر مبنی چند باتیں عرض کرنا ضروری سمجھ رہا  ہوں۔

آج کے اس جدید اور بندوق کی گولی سے زیادہ تیز رفتار والے دور میں  ایک ایک منٹ میں ایک طرف صنعتیں بنتی ہیں، چڑھتی ہیں اور مارکیٹ کو ایک لقمے میں ہڑپ کر جاتی ہیں اور دوسری طرف صنعتوں پر زوال آتے ہیں، گرتی ہیں اور صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ حال یہ ہے کہ ایک دوڑ اور ہنگامے کی سی کیفیت ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اس درجے کا ہے کہ ایک منٹ کی بھی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ لیکن اس کے برعکس دیکھا جائے تو وطنِ عزیز پاکستان میں خصوصاً یوتھ اور پچیس سے پینتیس سال کی عمروں کے افراد کی بہت بڑی تعداد ان چیزوں سے واقف نہیں ہوتی۔ جب تک ہوش آتا ہے تب تک بہت دیر ہو جاتی ہے۔ نہ دماغ کو ان چیلینجز کی عادت ہوتی ہے نہ جسم دماغ کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوتا ہے۔تو ضرورت یہ ہے کہ چند باتیں وقت سے پہلے سمجھ لی جائیں اور انہیں آگے کی زندگی میں بطور مشعلِ راہ کے استعمال کیا جائے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  میں نے نوکری کا خیال دل سے کیوں نکالا – چار اہم وجوہات

اپنی ناکامیوں کو کبھی نہ بھولیں

بہت اہم بات ہے۔ جو اپنی ناکامیوں کو بھول جاتا ہے اس کا کامیاب ہونا بہت مشکل کام ہے۔ بلکہ اگر میرے لیے ممکن ہوتا تو میں شاید یہ بھی کہہ جاتا کہ ناکامیوں کو بھول جانے والے انسان کے لیے کامیاب ہونا ناممکن ہے۔ناکامیاں آپ کی پرورش کرتی ہیں۔ آپ کو بتاتی ہیں کہ آئندہ کونسی غلطی نہیں دوہرانی۔ کس راستے کو چھوڑنا ہے۔ کس بات سے پرہیز کرنا ہے۔ کونسا کام نہیں کرنا۔ کس رویے سے گریز کرنا ہے وغیرہ۔ بہت سارے لوگ اس بات پر غور ہی نہیں کرتے کہ ان کی ناکامی انہیں کیا سبق دے کر گئی۔ بلکہ بہت سے یہ بھی نہیں سمجھ پاتے کہ واقعتاً وہ ناکام کہاں ہوئے۔ احتساب ضروری ہے۔  ہر چیز کو دیکھنا ضروری ہے اور اس میں سے اپنی ناکامیوں کی فہرست بنا کر ان چیزوں پر غور کریں جو ناکامی کا سبب بنی تھیں۔

جتنی زیادہ ناکامیاں ہونگی، تحفظ کے اتنے زیادہ ذریعے ہونگے۔ ایک ناکامی، یعنی اگلی بار اس غلطی کا امکان ختم ہوجائے گا جس کے آپ مرتکب ہوئے اور  ناکامی اٹھائی۔ لیکن اگر آپ اپنی ناکامی ہی کو بھول گئے تو کوئی بعید نہیں کہ آپ ہر بار ایک ہی غلطی کو ایک ہزار بار دہرائیں گے اور ہر بار ناکامی کا سامنا کریں گے۔  میں نے ہمیشہ اپنی زندگی میں اپنی ناکامیوں کو یاد رکھا ہے۔ اور ہر بار پچھلی بار سے زیادہ ترقی ہی کی ہے کیونکہ مجھے اپنی پچھلی بار کی ہار ہمیشہ یاد رہتی ہے۔

ناکامیوں کو اپنی راہ کی  رکاوٹ نہ بننے دیں

یہ درست ہے کہ ناکامی کو یاد رکھنا ضروری ہے۔ لیکن  اسے دل سے لگا کر بیٹھ جانا اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہائبرنیٹ ہوجانا انتہائی درجے کا کام ہے۔ انسان جستجو اور آرزو کے خمیر سے پیدا ہوا ہے۔ یعنی اگر یہ چیزیں آپ میں باقی نہیں ہیں تو پھر آپ مُردہ ہیں۔ کوشش، محنت، لگن اور کامیابی کی آرزو ہونا انسان ہونے کے مترادف ہے۔

ناکامی معمول کی بات ہے۔ معمولی سی چیز ہے۔ لیکن جب یہ راہ کا پتھر بن جائے تو سمجھ لیجیے کہ آپ کو رہنمائی اور موٹیویشن کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آپ کی آرزو مر رہی ہے۔” آپ “ مر رہے ہیں۔  ناکام ہو کر اپنی آرزؤوں کو دوبارہ جوڑیے، دوبارہ کمر کس لیجیے اور پھر سے ایک نئے عزم کو لے کر آگے بڑھیں۔ یہ سلسلہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔ کوئی انتہا نہیں۔

ایک وقت میں ایک کام

یہ بھی ضروری ہے۔ ایک وقت میں ایک کام کریں جب تک کہ آپ کی مینیجمنٹ کی صلاحیتیں بہت زیادہ نہ ہوں۔ وقت کو مینیج کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ میں اپنی مثال دوں تو اس بات پر میں خود بھی اکثر عمل نہیں کر پاتا۔ لیکن میں نے جب بھی کسی ایک چیز پر توجہ کی ہےتو اس میں کامیابی ہی نہیں، اتھارٹی قائم کی ہے۔ چاہے وہ کوئی علم ہو یا کوئی دوسرا عزم۔ آپ کو لیزر فوکسڈ (laser-focused) ہونا چاہیے اپنے مقصد کی جانب۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  کیا آپ کا نیا کاروبار کامیاب ہوگا؟

اس کا مقصد یہ بھی نہیں ہے کہ ساری عمر ایک ہی کام کریں۔ دو الگ الگ وقتوں میں دو الگ الگ کام ممکن ہیں۔ لیکن جس کام کو بھی لیں اسے گھول کر پی جائیں۔ اس میں فنا ہو جائیں۔ کیونکہ فنا ہی میں اصل بقا ہے۔ جو ڈوب نہیں سکتا وہ کچھ حاصل نہیں کرسکتا۔ ڈوبنا ضروری ہے۔

لالچ کامیابی کے لیے ضروری ہے

کیا؟ نہیں نہیں۔ یہ غلطی سے ٹائپ نہیں ہوا۔ میں لالچ ہی کی بات کر رہا ہوں کہ یہ کامیابی، جہدِ مسلسل اور استقامت کے لیے واجب کے درجے میں ضروری ہے۔ اس کے بغیر آپ کچھ نہیں کرسکتے۔ دور بدل گیا ہے۔  دور کے ساتھ محاورے بھی بدل جاتے ہیں۔ بھلے ہیں وہ لوگ جو اب تک اسی کہانی کو اپنے بچوں کو سناتے ہیں کہ لالچ بُری بلا ہے۔ کیونکہ آج کی عملی دنیا میں لالچ کے بغیر کامیابی تو کیا، ایک روٹی حاصل کرنا بھی ممکن نہیں۔

بھلا سوچیے کہ ایسا کونسا محرک ہے جو آپ کودن رات پڑھنے یا کام کرنے یا کسی اور چیز پر محنت کرنے پر آمادہ اور بر انگیختہ کرتا ہے؟ آپ کو مسلسل موٹیویٹ کرتا رہتا ہے؟ آپ کو ترقی کے لیے اگلے سے اگلے قدم بڑھانے پر اُکساتا رہتا ہے؟

کبھی اچھی نوکری کی لالچ، کبھی اچھے رشتے کی لالچ، کبھی کامیاب زندگی کی، کبھی معاشرے میں عزت اور سٹیٹس کی لالچ اور کبھی صرف نام اور پہچان  کی۔ لالچ بہت ضروری ہے۔ یہ مر گئی  تو ترقی ختم۔ آرزو ختم، حسرتیں ختم اور اسی کے ساتھ آپ بھی۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کارو بار – دو بنیادی اصول

یہ بات مختلف ہے کہ ایتھیکس کا لحاظ، قانون کی پاس داری ایک انسان کے انسان ہونے کے لیے ضروری ہے۔ اس کا خیال آپ کو اپنی لالچ کو بچاتے ہوئے رکھنا پڑے گا۔ حدود کی پاس داری بھی ضروری ہے۔ پاس داری کیجیے! حدود کی بھی، اور لالچ کی بھی۔

وابستگیاں ترقی میں رکاوٹ ہوتی ہیں

دوستی یاریوں اور وابستگیوں، جذباتی لگاؤ اور آشنائیوں کے چکر میں لوگوں کو مہینوں  نہیں، سالوں برباد کرتے دیکھا ہے میں نے۔ ایسے بھی لوگ دیکھے جو اپنی جاب اس لیے نہیں چھوڑتے کہ موجودہ جاب میں انڈرسٹینڈنگ زیادہ ہے۔ دوست اچھے ملے ہوئے ہیں۔ گپ لگتی ہے۔ گرل فرینڈ کے چکر میں رُوس سے ایم ڈی کی ڈگری چھوڑ کر آنے والے شخص کو بھی دیکھا اور اس کی خواری کا مشاہدہ بھی کیا۔ لوگ آگے بڑھ ہی نہیں پاتے۔

میں نے کبھی بھی جذبات کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ جو دور گزر گیا اسے یاد رکھتا ہوں لیکن بار بار پلٹ کر دیکھنا اور لوٹ جانے کی آرزو کرنا وہ چیز ہے جو آپ کو آگے بڑھنے سے روک دیتی ہے۔ دوستیاں کرتا ہوں۔ گھل مِل جاتا ہوں۔ وقت آنے پر ہنسی خوشی الگ بھی باآسانی ہو جاتا ہوں۔ یہ میرا مستقل اصول ہے جسے کوئی استثنا حاصل نہیں۔

خلاصۂ کلام

وقت کی رفتار بہت تیز ہے۔ پچھلے ادوار سے کہیں زیادہ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ چیزوں کو وقت سے پہلے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ بجائے اس کے کہ وقت کی مار کھا کر سمجھیں۔ کیونکہ جب تک وقت سمجھائے گا، بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ انسان کو اپنی زندگی کے عملی نظریات اور پرییکٹکل آئیڈیولوجیز میں ضرورت سے زیادہ مضبوط ہونا ضروری ہے۔ اور اس راہ میں جو بھی رکاوٹ ہو اسے جلد از جلد ہٹانے کی کوشش کرنا سب سے اہم کام ہے۔ اپنا مُرید آپ ہونا ضروری ہے۔ عملی دنیا میں آپ کی رہنمائی کوئی نہیں کرے گا۔ آپ کا سب سے اچھا دوست بھی نہیں۔ اور بدلتے دور سے ناواقفیت کی وجہ سے شاید آپ کے والدین بھی نہیں۔ اس لیے اپنی نظر تیز کیجیے۔ مشاہدہ ایسا ہو کہ لوگوں کی زندگیوں میں ہونے والے معاملات، انکی کامیابیوں اور ناکامیوں کی چیر پھاڑ کر کے رکھ دے  اور عمل ایسا ہو کہ لوگ دنگ رہ جائیں۔

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

3 تبصرے

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: