بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

کاروبار

کیا آپ کا نیا کاروبار کامیاب ہوگا؟

کراچی میں محمود آباد نمبر ایک کا علاقہ محمود آباد گیٹ سے متصل ہے۔ یہ کراچی کے اُن علاقوں میں سے ہے کہ جہاں سب سے زیادہ رونق دن رات اور صبح شام رہتی ہے۔ سبزی فروشوں سے لے کر کھانے والوں تک اور قصائیوں سے لے کر نائیوں تک ایک اچھا خاصا چلتا ہوا بازار لگتا ہے یہ علاقہ۔ ابھی دو یا شاید ڈھائی سال پیچھے کی بات ہے کہ ایک لڑکا جو شاید پچیس سے تیس سال کے درمیانی عمر کا ہے، شوارما کا کیبن لگا کر وہیں بیٹھ گیا۔ برابر میں تکہ بوٹی، سامنے چنا چاٹ، اس کے دوسری طرف برگر اور سموسے وغیرہ کا ٹھیلہ۔ دائیں ہاتھ کی جانب دیکھیے تو روایتی طرز کے پنجابی سٹاف والے ہوٹل موجود ہیں جہاں قورمہ، قیمہ، چکن فرائی، دال، سبزی اور دیگر دیسی کھانے اور روٹی وغیرہ ملتی ہے۔ کمر کے پیچھے دو بریانی کی دوکانیں، ایک آنکھوں کا ہسپتال ہے۔  ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کا روز کا گزر اس جگہ سے ہونا بہت چھوٹی اور عام سی بات ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  میں نے نوکری کا خیال دل سے کیوں نکالا – چار اہم وجوہات

دیکھا جائے تو ایسے علاقے کراچی میں ہر بارہ سے پندرہ کلو میٹر پر موجود ہیں جہاں اس طرح کی رونق کا منظر ہوتا ہے۔ کاروبار کے لیے عموماً ایسی جگہیں سب سے زیادہ موزوں اور سوٹیبل سمجھی جاتی ہیں جہاں اس طرح کی رونق رہتی ہو۔ اس شوارمے والے کو ابھی دو مہینے بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ کیبن پر اچھا خاصا رش لگنا شروع ہوگیا۔

لوگ آتے اور آٹھ آٹھ، دس دس اور پندرہ  شوارما رول مانگتے۔ میں اسے کافی عرصے غور سے دیکھتا رہا۔  وہ لڑکا انتہائی تیزی سے کام کرنے کے باوجود بھی پانچ منٹ میں دو شوارما رول سے زیادہ نہیں بنا پاتا تھا۔ سائڈ کے کام کے لیے الگ وقت درکار تھا۔ مجھے اس کی محنت اور کامیابی پر رشک آنے لگا تھا اور خوش تھا کہ چلو اچھا ہے اسے روزگار مل گیا۔

اس کے بعد رمضان اور عید کا دورانیہ آیا تو میں مصروف ہوگیا۔ کوئی تین یا چار ماہ بعد دوبارہ وہیں سے گزر ہوا جہاں ایک ہوٹل میں کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ اس لڑکے کے کیبن کی طرف نظر گئی  تو بہت حیرت ہوئی۔ حیرت کی وجہ یہ تھی کہ اس شوارما رول والے کے پاس  اس بار سناٹا تھا۔ آدھے پونے گھنٹے کی تشویش کے بعد اس کے پاس گیا اور حال احوال دریافت کیا۔ وہ روہانسا سا ہوگیا تھا۔ کہنے لگا میرے بعد یہاں آس پاس میں  چھ شوارما رول والے اپنا اپنا کام شروع کرچکے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ میرا کام تقریباً ختم ہی ہوگیا۔

اس واقعے کو سنانے کا مقصد کیا ہے؟

اس واقعے سے کچھ چیزیں اخذ کی جاسکتی ہیں:

1۔ کاروبار کی نوعیت کچھ بھی ہو، سب سے ضروری یہ ہے کہ مارکیٹ کو کچھ نیا چاہیے۔

اس لڑکے کے شوارما کیبن سٹارٹ کرنے سے پہلے اس علاقے میں شوارما نہیں ہوتا تھا۔ دیسی کھانے بہت عام تھے جو عام طور پر فیملی رکھنے والے افراد اس طرح کے ہوٹلوں سے نہیں کھاتے۔ بریانی مقبول کھانا ہے لیکن وہاں پہلے ہی اچھی خاصی مقبول دو دکانیں موجود تھیں۔ البتہ شوارما جیسی کوئی چیز وہاں نہیں تھی جو اس لڑکے نے شروع کی اور اچھا خاصا کاروبار کیا۔

2۔  سستا اور معیاری پراڈکٹ پبلک کی ڈمانڈ ہوتی ہے جو اس لڑکے نے مارکیٹ کو دیا۔

ساٹھ روپے میں شوارما رول بہرحال ایک سستا آپشن تھا جو کہ عموماً سو روپے سے کم کا دوسرے علاقوں میں کہیں نہیں ملتا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ اس نے شوارما کا دیسی انداز اپنا کر گھریلو چٹنی اور ساسز کا استعمال کیا تھا۔ یوں لاگت کم ہوگئی تھی اور دیسی کھانے والوں کو اپنی طرز کا ذائقہ مل گیا۔

3۔ ایسی جگہ کا انتخاب ضروری ہے جہاں لوگ آپ کی پراڈکٹ کو ڈھونڈتے ہوئے آتے ہوں۔

اس لڑکے نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں لوگ بھوک لگنے پر کچھ کھانے کے لیے آتے تھے۔ وہاں برگر، بریانی، اور دیگر دیسی کھانے موجود تھے جس میں اس نے ویرائٹی کو بڑھا کر ایک نئی چیز کو متعارف کروایا اور اچھی خاصی مقبولیت حاصل کی۔

4۔ مارکیٹ کامپٹیشن کا سامنا کرنے کے لیےجدت ضروری ہے۔

وہ لڑکا ویرائٹی میں جدت تو لایا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ بدلنے کی ضرورت تھی۔ اس نے چلتے ہوئے کام کو اکیلے ہی سنبھالنے کی کوشش کی اور کام کو آگے نہیں بڑھایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب دوسرے لوگ شوارما کا کام شروع کرنے آئے اور انہوں نے اس لڑکے سے زیادہ بہتر انوائرنمنٹ دیا تو اس لڑکے کا کاروبار متاثر ہوگیا۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  پاکستان میں آن لائن کاروبار کے امکانات

 گزشتہ چند سالوں میں کئی کاروبار ختم ہوئے ہیں۔ انتہا سے زیادہ لوگ بے روزگاری کی سرحد سے ہوتے ہوئے غربت کا سفر طے کرچکے ہیں۔ جس تیزی سے پچھلے چھ آٹھ سالوں میں لوگوں نے اپنے کاروبار بدل کر دوسرے کاروبار شروع کیے ہیں یہ ٹرینڈ اور یہ ریکارڈ آپ کو پاکستان کی ستر سال کی مکمل تاریخ میں کہیں نہیں ملتا۔ نظر اٹھا کر دیکھیے تو مذکورہ بالا کہانی آپ کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے والوں میں ہر جگہ نظر آئے گی۔ عوام کو جدت چاہیے۔ کمفرٹ چاہیے۔ آسانی کی ڈمانڈ ہے۔ کم خرچ اور بالانشینی کی مانگ ہے۔اور یہ ڈمانڈ آپ کو ہر اگلے دن نئے اور بہتر طریقے سے پوری کرنی پڑے گی۔

موجودہ دور میں کاروبار کا ہر دن ایک نیا دن اور ہر شام ایک نیا چیلنج لے کر آرہی ہے۔ آپ ایک فرنچ فرائز  کا  سٹال  لگائیں اور اس پر ایک وقت میں اگر تین افرادفرنچ فرائز  کھانے آتے ہیں تو دو مہینےمیں وہاں دو سٹالز اور کھڑے ہو جائیں گے۔ کامپٹیشن آجائے گا۔ آپ کے تین کسٹمرز میں سے اب صرف ایک ہی رہ جائے گا کیونکہ انہیں لائن میں لگنا پسند نہیں۔ خصوصاً اس وقت جب معیار میں بھی کوئی فرق نہ ہو۔ نتیجتاً تینوں ہی خسارے میں جائیں گے۔ اس لیے نہیں کہ وہ معیار نہیں دے رہے۔ بلکہ اس لیے کہ وہ ایسی جگہ کام کر رہے ہیں جہاں اب اس کام کی ضرورت ہی نہیں رہی۔

یہی مثال ہر جگہ اور ہر کاروبار میں فِٹ ہوتی ہے۔ روایتی طرز میں کاروبار کرنے والوں کی سب سےبڑی خامی یہی رہی جو انہیں بہت پیچھے چھوڑ گئی۔ جب تک آپ نائی کو ہئیر ڈریسر، دھوبی کو ڈرائی کلینر اور بھٹیار ے کو ریسٹوریٹر بنانے کے لیے آمادہ  نہیں ہوتے تب تک آپ کامیابی سے دور رہیں گے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  کاروبار اور ویب سائٹ کی ضرورت

نئے مارکیٹنگ آرڈر میں سب سے اہم چیز یہی ”گلیمر“ ہے۔ چیزوں کو گلیمرائز کریں اور لوگ آپ کے آگے  جُھک کر آپ سے دس روپے کی چیز دس ہزار میں لے کر جائیں گے۔  یہ دوڑ  لامتناہی ہے جس میں آپ جہاں رک گئے وہیں سے آپ کی اُلٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کیجیے۔ اپنی جمالیاتی (aesthetic)  سمجھ بوجھ  کو بڑھائیے۔

نئے کاروبار میں سروائول  اور کامیابی کے صرف اور صرف دو طریقے ہیں:

پہلا: مارکیٹ کو وہ چیز دیجیے جو اب تک کسی کے پاس نہیں۔

دوسرا: پُرانی چیز کو ایسے نئے انداز سے  پیش کردیجیے کہ لوگوں کے ہوش ٹھکانے آجائیں۔

ایسا ہاتھ ماریے کہ دماغ گھوم جائے!

کیا سمجھے؟

تحریر اچھی لگی؟

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

4 تبصرے

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: