بلاگ سبسکرائب کریں

اپنا ای میل ایڈریس ڈال کر سبسکرائب کریں اور نئی تحریر کی اطلاع بذریعہ ای میل حاصل کریں

بلاگنگ

اردو ویب سائٹس، بلاگنگ اور مالی پریشانیاں

ایک عزیز نے ایک گروپ میں سوال کیا:

“نجانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ اردو بلاگنگ اتنی مقبول نہیں ہے. تھوڑے سے بلاگس ہیں بس اور زیادہ لوگ وزٹ بھی نہیں کرتے اور کمنٹ تو بہت ہی کم کیا جاتا ہے . اچھی سے اچھی تحریروں کے بلاگس پر بھی اتنی زیادہ ٹریفک نہیں ہوتی…ایک ایم بلال ایم والا ہی مشہور ہے وہ بھی پاک اردو انسٹالر کی وجہ سے…

نا اس اردو بلاگنگ گروپ میں وہ چیز ہے کہ ہہاں بار بار آنے کا دل کرے…بلاگرز اگر وقت نکال کر زیادہ زیادہ تحاریر لکھ بھی دیں پھر بھی اس لیول کی ٹریفک نہیں آتی… میں نے کافی بلاگس ایسے دیکھیں ہیں جن پر نئی پوسٹ ہو ہی نہیں رہی…اتنے مہینوں سے ویسے کے ویسے ہیں… اردو بلاگنگ کا رجحان بہت کم ہے اور اس کو اتنی کامیابی بھی نہیں ملی.”

یہ تحریر بھی پڑھیں:  بلاگ یا ویب سائٹ؟ کس سے پیسہ کمایا جائے

جواب عرض ہے:

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگر اردو بلاگروں کو بلاگنگ سے مالی فائدہ حاصل ہونے کا یقین دلادیا جائے اور انہیں پورا سٹرکچر سمجھ میں آجائے تو بلاگنگ کو کوئی نہیں چھوڑے گا۔

دلیل، مکالمہ، دانش، شاہکار وغیرہ اور اس جیسی ویب سائٹس براڈ سپیکٹرم ضرور ہیں، لیکن فنانشل سکوپ میں بہت چھوٹی ہیں۔

پریشانی یہ ہے کہ ہمارے یہاں بلاگنگ کو ایک مقصد سمجھ کر ایک موضوع کی حدود میں رہتے ہوئے نہیں کیا جاتا۔ بلاگروں کی تحریروں کو دیکھیے تو ایک تولہ اور ایک ماشہ ہوتی ہے۔ ریڈر شپ بنانے کے لیے اپنے موضوع پر فوکسڈ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ تب جاکر کچھ عرصے میں ریڈرشپ بنتی ہے۔ بے شک آپ کے پاس ریوینیو جنریشن کا کوئی پلان نہ بھی ہو، تو بھی اگر آپ ایک موضوع کو مسلسل بنیادوں پر پکڑ کر رکھیں اور ہفتے میں تین تحریریں اس موضوع پر لکھیں تو پیسہ خود آپ کو ڈھونڈتے ہوئے پہنچ جاتا ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  کیا مفت بلاگ یا ویب سائٹ کے ساتھ پیسہ کمایا جاسکتا ہے؟

اور اگر مارکیٹنگ سکلز اچھے ہوں تو یہ کام بہت جلدی بھی ہوسکتا ہے۔ میں کسی اور کی بات نہیں کرتا، خود مجھے میرے اپنے بلاگ سے (جو میں نے ابھی پچھلے مہینے ہی شروع کیا ہے) تین کمپنیوں نے اپروچ کیا ہے۔ اور ایک کمپنی نے انٹرنیٹ مارکیٹنگ کا پراجیکٹ دیا ہے۔ اسی کے ساتھ میں مارکیٹنگ کورس بھی کروا رہا ہوں۔ جس کی پانچ ہزار فیس ہے اور بیس لوگ کورس میں شامل ہیں۔ چار مزید افراد کو پرائویٹ کورس کروا رہا ہوں۔ اور ایک ہی مہینے کے قلیل ترین عرصے میں میرے بلاگ کا سٹیٹسٹک ایک کروڑ پینتیس لاکھ گلوبل رینک سے نیچے آکر نو لاکھ پر پہنچ چکا ہے۔ اور رینک مزید بڑھتا جارہا ہے روزانہ کی بنیاد پر۔ اس کے برعکس مکالمہ بہرحال ایک بڑی ملٹی پرپز ویب سائٹ ہے، میرے بلاگ سے خاصی پرانی ہونے کے باوجود اتنے عرصے میں بھی گلوبل چار لاکھ رینکنگ پر ہے۔ جبکہ مکالمہ، دانش، شاہکار وغیرہ جیسی اچھی ویب سائٹس کی ریوینیو جنریشن میرے بلاگ کی ریوینیو جنریشن کے مقابلے میں شاید بیس فیصد بھی نہیں ہے اس بات کا مجھے پختہ یقین ہے۔

یہ تحریر بھی پڑھیں:  آن لائن کاروبار - چند مغالطے

میری پراگریس کی تین اہم ترین وجوہات ہیں۔

  1. سٹریٹیجیکل گروتھ۔
  2. مارکیٹنگ پلان۔
  3. کانٹینٹ کی کوالٹی۔

یہ تینوں چیزیں مل کر نہ صرف قاری کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہیں، بلکہ ہر تحریر ایک کال ٹُو ایکشن تحریر ہوتی ہے جو مارکیٹ میں لیڈزجنریٹ کرتی ہے۔

یہی چیزیں میں اپنے آن لائن کورس میں بھی سکھا رہا ہوں تاکہ لوگوں کی اردو کے حوالے سے غلط فہمیاں دور ہوں۔ کیونکہ میں صرف باتیں نہیں کر رہا۔ تجربے کے میدان میں اتر کر لوگوں کو نتیجہ دکھا رہا ہوں جسے ہر کوئی با آسانی ویریفائی کرسکتا ہے۔

تو ایسے میں چھوٹے بلاگرز کا شکوہ ایک طرح سے بجا بھی ہے، اور بے جا بھی۔ لیکن میرے نزدیک اردو میں بہت پوٹینشل اور امکانات کا وسیع جہان ہے جسے بس دریافت کرکے مسخر کرنا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اردو کی مارکیٹ سے کیا حاصل کرتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

مزمل شیخ بسمل

پیشے کے اعتبار سے طبیب، جذباتی وابستگی ادب سے، شوق فلسفے کا، اور ضرورت قلم کی۔ کل ملا کر بات یہ ہے کہ خود کو تسخیر کر رہا ہوں میں۔

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ شامل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ لکھیں: